ابنا: پريس ٹي وي کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے عوام نے بدھ کي رات مظاہرے کئے اور نمائشي عدالتي کارروائي ميں مظاہرين کو سنگين سزائيں ديئے جانے کي مذمت کي ـبدھ کے روز ايک عدالت نے چار حکومت مخالف افراد کو مظاہروں ميں شرکت کي وجہ سے سزائيں سنائيں جس کے بعد عوام ميں غم و غصہ اور بھي بڑھ گياـسب سے بڑي اپوزيشن جماعت الوفاق نے ايک بيان ميں فوجي عدالت کے فيصلوں کي مذمت کي اور کہا کہ ان فيصلوں ميں بنيادي ترين عالمي قوانين کا بھي لحاظ نہيں کيا گيا ہےـ
بحرين ميں چودہ فروري سے مظاہرے جاري ہيں اور مظاہرين پر بحريني اور سعودي فوجيوں کے حملوں ميں سو سے زائد افراد شہيد اور بڑي تعداد ميں زخمي ہوئے ہيں ـ بحرين کي احرار پارٹي کے سربراہ سعيد الشہابي نے بھي کہا کہ ملک ميں چھے مہينے کے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ آل سعود کے فوجي اپنے اہداف حاصل نہيں کر سکے ہيں اور انساني حقوق کي خلاف ورزي اور عورتوں، بچوں اور ڈاکٹروں کے ساتھ زيادتي کي وجہ سے عالمي سطح پر آل خليفہ حکومت کي بھي شبيہ خراب ہوئي ہےـسعيد الشہابي نے فوجي عدالت کے فيصلوں کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ ان فيصلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کا خاندان بحرين کي حکومت چلا رہا ہےـ انہوں نے آل خليفہ کي طرف سے ڈاکٹروں پر مقدمہ چلائے جانے کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ عوام کي سرکوبي کے باوجود آل خليفہ اور آل سعود حکومتيں آخرکار ڈاکٹروں اور نرسوں کو آزاد کرنے پر مجبور ہوں گي کيونکہ عورتوں اور ڈاکٹروں کو پوري دنيا کي حمايت حاصل ہے-.......
/169