24 ستمبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ فلسطین کے ایک حصے میں فلسطین کی آزاد ریاست کی تشکیل کے معنی بقیہ فلسطینی زمینوں سے چشم پوشی کے نہیں ہیں۔

ابنا: ڈاکٹر احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کے دورے کے اختتام پر الجزیرہ ٹی وی سے انٹرویو میں فلسطین کی آزاد ریاست کی تشکیل کے بارےمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں درخواست پیش کئے جانے کےبارے میں کہا کہ ملت فلسطین دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اس سے پہلے بھی موجود تھی بنابریں فلسطینی مملکت کے نام سے ایک حکومت قائم کرنا نہایت عجیب بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو چيز اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں فلسطینی قوم کا حصہ ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہےجو فلسیطینی قوم کو دی جارہی ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحاد دیکھ رہے ہیں کہ صہیونی ریاست سرنگونی کے خطرے سے دوچار ہے لھذا وہ فلسطینی حکومت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اسی وجہ سے بعض حکومتوں نے تاریخی ٹیکٹیک کی حیثیت سے فلسطینی ریاست کی تشکیل کا مسئلہ اٹھایا تاکہ صہیونی ریاست کو نجات دے سکیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتےہیں کہ فلسطینی حکومت کا مسئلہ طولانی مذاکرات کے جال میں پھنس کررہ جائے لیکن بے شک یہ چال بھی صہیونی ریاست کو نجات نہیں دے سکتی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایران کے ایٹمی پروگرام کےبارےمیں پوچھے گئے سوال کےجواب میں کہا کہ ایران کے پاس ایٹم بم نہيں ہے اور ہم نے ایٹم بم حاصل کرنے کی کبھی کوشش بھی نہیں کی اور نہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا اسلامی جمہوریہ ایران پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کے سہارے ترقی کرنے پر یقین رکھتا اور اسے عالمی قوانین کے مطابق تمام قوموں کا حق سمجھتا ہے۔............

/169