20 ستمبر 2011 - 19:30

افغانستان کے سابق صدر اور اعلي امن کونسل کے سربراہ برہان الدين رباني کےدہشتگردانہ حملے ميں جاں بحق ہوجانے پر اسلامي جمہوريہ ايران نے اپنے شديد رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے پر افغان عوام اور حکومت کوتعزيت پيش کي ہے

ابنا: دنيا کے ديگر ملکوں نے بھي برہان الدين رباني کے جاں بحق ہوجانے پر افسوس کا اظہار کيا ہے.

اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے افغانستان کے سابق صدر برہان الدين رباني کے جاں بحق ہونے پر اس ملک کي حکومت اور عوام کو تعزيت پيش کي ہے -

ترجمان وزارت خارجہ نے منگل کي رات ، برہان الدين رباني کے قتل کے کچھ گھنٹوں بعد اپنے ايک بيان ميں ، اس دہشت گردانہ اقدام کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمي يوم امن کے موقع پر ، افغانستان کے اعلي امن کونسل کے سربراہ کا قتل ، امن و پائداري کے قيام کے بہانے دس برسوں سے غير ملکي افواج کي موجودگي کے باوجود افغانستان ميں دہشت گردي ميں پھيلاؤ کي علامت ہے-

 ايران کے دوستوں ميں شمار کئے جانے والے برہان الدين رباني ، منگل کي رات ، افغانستان کے دار الحکومت کابل ميں اپنے گھر ميں شہيد کر ديئے گئے - ان کا گھر امريکي سفارت خانے اور نيٹو کے ہيڈکوارٹر کے اطراف کے علاقے ميں واقع ہے جہاں سيکوريٹي کے انتہائي سخت انتظامات ہوتے ہيں -اسلامي جمہوريہ ايران کے اسپيکر نے بھي افغانستان کي اعلي امن کونسل کے سربراہ کي شہادت پر تعزيت پيش کي ہے -

ڈاکٹر علي لاريجاني نے اس دہشت گردانہ کارروائي کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برہان الدين رباني افغانستان کي اہم شخصيات ميں سے تھے جنہوں نے اپني پوري عمر اس ملک کي خود مختاري و آزادي کي راہ ميں جد و جہد کي اور برسوں تک ملکي آمريت اور غير ملکي غاصبوں کے خلاف مصروف پيکار رہے.

واضح رہے منگل کي رات کو ہونے والے اس حملے ميں افغانستان کي اعلي امن کونسل دار الانشاء کے دفتر کے سربراہ محمود معصوم استانکزي اور کونسل کے ايک رکن واحد يار زخمي ہو گئے -

ہندوستان نے بھي افغانستان کے سابق صدر برہان الدين رباني کے قتل کي مذمت کي ہے - ہندوستاني وزير خارجہ ايس ايم کرشنا نے منگل کي شام ايک بيان جاري کرکے کہا ہے کہ مجھے ، افغانستان کي اعلي امن کونسل کے سربراہ اور سابق صدر کے قتل کي خبر سن کر شاک لگا ہے -بيان ميں کہا گيا ہے کہ دہشت گردوں نے افغانستان ميں امن کي ايک آواز کو دبا ديا - برہان الدين رباني کي عمر بہتر سال تھي اور انہوں نے فلسفہ اسلامي پر جامعہ الازہر سے ڈاکٹريٹ کي ڈگري حاصل کي تھي - وہ افغانستان پر روس کے قبضے کے دوران مجاہدوں ميں ايک با اثر شخصيت تھے اور شمالي افغانستان پر مجاہدوں کي حکومت کے دوران وہ صدارت کے عہدے پر فائز رہے - عالمي رہنماؤں سے رباني کي ملاقاتيں ، خاص طور پر گورباچوف کے زمانے ميں ان کا تاريخي دورہ ماسکو ، افغانستان ميں جہاد کے سياسي نقطہ نظر سے اہم واقعات ميں شمار کيا جاتا ہے - سياسي سرگرميوں کے ساتھ ہي ، ثقافتي شعبے ميں ان کے جد و جہد کي وجہ سے وہ افغانستان ميں ہر دل عزيز شخصيت سمجھے جاتے تھے. ........

/169