ابنا: آج بروز ہفتہ کو بلوچستان پولیس نے گذشتہ برس القدس ریلی کوئٹہ میں ہونے والے ہولناک خود کش بم دھماکے میں ذخمی ہونے والے چھ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس ماہ رمضان المبار ک کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع) کو عالمی یوم القدس کی ریلی نکالی گئی تھی جس میں امریکی و صہیونی ایجنٹ طالبان دہشت گردوں نے ایک خودکش حملہ کر کے ستر سے زائد شرکائے القدس ریلی کو شہید کر دیا تھا جبکہ ایک سو سے زائد شیعہ نوجوان و بزرگ شدید ذخمی ہوئے تھے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق آج صبح پولیس نے القدس ریلی کوئٹہ کے زخمیوں کو بلوایا اور دھوکے سے گرفتار کیا۔ گرفتار ہونے والے شیعہ نوجوانوں میں منصور علی ولد محمد امن،سید حیدر عباس ولدسید جعفر حسین ، روشن علی ولد سید حسین، سید منیر حسین ولد سید اکبر حسین ،نصیب علی ولدخہرپال حسین اور غلام حسین ولدخدا نظر شامل ہیں ۔
نا اہلی پر مبنی اس پولیس کاروائی کے بعد بلوچستان میں شیعہ عمائدین بشمول بلوچستان شیعہ کانفرنس، مجلس وحدت مسلمین پاکستان،آئی ایس او پاکستان او ر جعفریہ الائنس پاکستان نے حکومت اور پولیس کے دھوکہ بازی کے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور حکومت اور پولیس کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی نا اہلی کو چھپانے کے بجائے القد س ریلی مٰن دھماکہ کرنے والی ناصبی وہابی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کرے ،ان کاکہنا تھا کہ کہ پولیس دہشت گردوں کو تو گرفتار نہیں کر سکی جن کی وجہ سے سینکڑوں بے گناہ شہید ہوئے تاہم بے گناہ افراد کو گرفتار کر کے پولیس اپنی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت دے رہی ہے ،لہذٰ ا زخمی ہونے والے شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری ایک شرمناک فعل ہے حکومت فی الفور ان جوانوں کو رہا کردے اور دھماکے میں ملوث کالعدم دہشت گرد ٹولوں کے وہابی دہشت گردوں کو گرفتار کرے۔
اپڈیٹ: نوجوان رہا کردیئے گئے:
شیعہ کلنگ کی خبر پر ایکشن، عزاداری کونسل حرکت میں آگئی، نوجوانوں کی رہائی
آج صبح کوئٹہ پولیس نے یوم القدس میں زخمی ہونے والے افراد کو یہ کہہ کر بلایا، کہ حکومت کی جانب سے القدس ریلی میں زخمی ہونے والے افراد کے لئے معاوضہ فراہم کیا گیا ہے۔ جب یہ چھ شیعہ نوجوان تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں معاوضہ دینے کی بجائے دھوکا دیتے ہوئے گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا۔
یہ خبر شیعہ کلنگ پے چلنے کے بعد عزاداری کونسل حرکت میں آگئی، عزاداری کونسل کے چیئرمین رحیم جعفری نے شیعہ کلنگ سے رابطہ کیا جس پر شیعہ کلنگ نے تمام معاملات سے عزاداری کونسل کو آگاہ کیا، جس پر چیئرمین رحیم جعفری نے آئی جی بلوچستان کو ڈی ایس پی سی آئی ڈی شہنواز مروت کی دہشتگردی سے آگاہ کیا۔ المختصر یہ کے تمام کوششوں کی بعد تمام نوجوانوں کو رہائی نصیب ہوئی۔
واضع ریے کہ ڈی ایس پی سی آئی ڈی شہنواز مروت شیعہ دُشمنی میں آگے آگے رہا ہے جو کبھی عزاداری کونسل کے چیرمین رحیم جعفری کے گارڈ کو اُٹھا لیتا ہے اور پھر ایک سال بعد گارڈ باعزت بری ہو جاتا ہے، کبھی دھوکے سے شیعہ نوجوانوں کو اُٹھا لیتا ہے، کبھی شیعہ نوجوانوں کو اپنی بدمعاشی سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
............
/169