14 ستمبر 2011 - 19:30

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ میں ہزارہ قومکے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف اسلام آباد اور کوئٹہ میںاحتجاجی مظاہرہے کئے گئے .

ابنا: اسلام آباد میں مرکزی چیئرمین عبدالخالق ہزارہ کی قیادت میں ریلی نکالی گئی اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جس میں مرکزی سیکرٹری جنرل احمد کوہزاد ، وائس چیرمین عزیزاللہ ہزارہ، مرزا حسین ہزارہ ، محمد رضا ہزارہ ، سردار ساحل ہزارہ اور ہزارہ ایس ایف کے صدر عصمت ہادی نے شرکت کی مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے ایک گھنٹے تک دھرنا دیا.مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے چیر مین عبدالخالق ہزارہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ایک سازش کے تحت فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہے بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چٹرھایا جارہا ہے دہشت گردی اور فرقہ واریت پر قابو نہ پانا بیرونی قوتوں کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی بے حسی کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں بے گناہ افراد مسلسل نشانہ بن رہے ہیں صورتحال انتہائی سنگین ہونے کے باوجود اب تک صوبائی اسمبلی کا ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کاروائی کرئے گی اور اس موقع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ڈاکٹر عبدالملک بلوچ اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی سید ناصرعلی شاہ نے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا.کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے ہونیوالے احتجاجی مظاہرے کی قیادت پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد رضاوکیل نے کی اس موقع پر محمد رضا وکیل ، محمد حسین ہزارہ ، علی ہزارہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انتظامیہ اپنی زمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہیں ، جس کی وجہ سے کوئٹہ کا امن تباہ ہوکر رہ گیا ہے ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی وارداتیں مسلسل جاری ہیں فرقہ واریت کے نام پر بعض عناصر نفرتیں پھیلارہے ہیں ہزارہ قوم نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اب بھی پرامن احتجاج کررہی ہیں مگر ہمارے احتجاج پر توجہ دی جارہی ہے اور نہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن کیا جارہا ہے اس موقع پر مظاہرین نے نعرہ بازی بھی کی.......

/169