13 ستمبر 2011 - 19:30

انھوں نے کہا: ہمیں اپنے حقوق سے محروم کرکے دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کی سازشیں تھیں اور تشیع کے خلاف قانوں منظور کرانے کے لئے پارلیمنٹ تک لے جایا گیا مگر ہم نے سختی سے ان کا مقابلہ کیا اور انہیں قانون منظور نہیں ہونے دیا۔

ابنا: عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے رکن شورائے عالی علامہ ساجدعلی نقوی نے تہران میں منعقدہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے پانچویں اجلاس سے اپنے خطاب میں پاکستان کے اہل تشیع کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ١٨کروڑ عوام میں شیعیت کی آبادی   ١٥سے ٢٠٪ ہے مگر ہم تمام مکاتب فکر کے ساتھ مل جل کرزندگی بسرکررہے ہیں اور پاکستان میں کسی قسم کا شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا: شیعیان پاکستان کم و بیش ہمیشہ مشکلات سے دوچار رہے ہیں اور وہابیت کی طرف سے شیعہ مخالف گروہوں کی حمایت کی وجہ سے مختلف انداز میں شیعت کے خلاف سیاسی ومذہبی سازشیں بھی ہوتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔علامہ ساجد علی نقوی نے کہا: دشمن کی سازش تھی کہ وہ ہمیں اپنے حقوق سے محروم کرکے دوسرے درجے کا شہری قرار دے، یہاں تک کہ ہمارے خلاف ہونے والی ان سازشوں کا سلسلہ ایوان پارلیمان تک پہنچایا گیا اور تشیع کے خلاف قانون منظور کرانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم نے سختی سے ان کا مقابلہ کیا اور دشمن کو اس قسم کوئی کاروائی اور قانون منظور نہیں کرانے دیا نہ دیا۔عالمی اہل بیت (ع)اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں صرف ہی وہابیت کی مخالفت نہیں کررہے بلکہ وہاں کے تمام مکاتب فکر اورمذاہب اسلامیہ بھی اس نام نہاد اورجعلی فرقے کے مخالف ہیں جبکہ ہمارے اہل سنت کی تمام ترسیاسی مذہبی جماعتوں سے مضبوط رابطے اور اچھے تعلقات ہیں؛ لہذا پاکستان کے اندر کسی قسم کی کوئی فرقہ وارانہ جنگ نہیں ہے بلکہ وہاں پر مذہبی دہشت گردی اور آج کل ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ چلا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ہماری قیمتی جانوں کاضیاع ہوا ہے اور اس ٹارگٹ کلنگ و مذہبی دہشت گردی کے پیچھے خفیہ طاقتیں ہیں جو  ان شیعہ مخالف گروہوں کوسپورٹ کرتی ہیں۔انھوں نے کہا: پاکستان میں ان خفیہ طاقتوں کے پنجے  اتنے مضبوط ہیں کہ حکمران ان کے سامنے بے بس اور بے چارے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110