اہل البیت نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کا پانچواں اجلاس سربراہی کانفرنس ہال تہران میں شروع ہوا اور صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کیا۔صدر احمدی نژاد نے صاحبان رائے و نظر، اساتذہ، مفکرین اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے انسان کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انسان عالم وجود کی اہم ترین مخلوق ہے اور پورا عالم انسان کی خاطر خلق ہوا ہے۔انھوں نے کہا: آسمان اور زمین اور دنیا کے تمام موجودات انسان کی خدمت اور انسان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور انسان کو خدا نے اپنے لئے خلق کیا ہے تا کہ وہ زمین پر اللہ کے اسماء اور صفات کی تجلی کے طور پر کردار ادا کرے۔انھوں نے کہا: خدا نے انسان کو تنہا نہیں چھوڑا اور اس کی ہدایت کے لئے ہادی اور رہبر بھیج دیئے جو انسان اور خدا کے درمیان واسطے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: انسان اور خدا کے درمیان واسطہ بننے والے ان ہادیوں کو کامل اور دوسروں کی نسبت نقطہ عروج پر ہونا چاہئے اور انہیں دوسروں کے لئے نمونۂ عمل بننا چاہئے۔صدر اسلامی جمہوریہ نے کہا: انبیاء اور اوصیاء انسان کی ہدایت اور انسان کی فکر اور سوچ اور جذبات کو غل و زنجیر سے آزاد کرنے اور انہیں انسانوں کی بندگی سے رہا کروا کر صرف اور صرف خدا کی بندگی کی طرف بلانے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا: تمام انسانوں کا انتہائی مقصد ایک ہی حقیقت ہے؛ سب توحید، عدالت، اللہ تک پہنچنے اور علم و حکمت اور رحمت مطلق کے حصول کے درپے تھے۔انھوں نے کہا: اس چوٹی کو سر کرنے کے لئے خداوند عالم نے انبیاء بھیج دیئے۔صدر احمدی نژاد نے آیت کریمہ «انّ الدّين عند الله الاسلام» تلاوت کی اور کہا: تمام ادیان کی حقیقت ایک ہی ہے اور تمام انبیاء کے حامی اور پیروکار بھی درحقیقت مسلمان ہی ہیں۔انھوں نے کہا: اللہ تعالی نے متفرقغ ادیان نہیں بھیجے بلکہ تمام ادیان کی حقیقت ایک ہی ہے تاہم اس نے ہر زمانے میں انسان کی فکری سطح کے تناسب سے دین کا کچھ حصہ نازل فرمایا اور آخر کار دین کامل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے توسط سے اتارا گیا اور بنی نوع انسان کے سپرد کیا گیا۔صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا: اگر کوئی حقیقتا حضرت موسی کا پیروکار ہے تو اس نے جن دلائل کی بنا پر حضرت موسی کا دین قبول کیا ہے ان ہی دلائل کی بنا پر حضرت عیسی کے دین کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے اور جس نے حضرت عیسی کو قبول کیا ہے ان ہی دلائل کی بنا پر ہمارے پیغمبر عزیز کے دین پر ایمان لانا پڑے گا۔صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا: انسانی کمال کے راستے میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں، ظلم و جور اور نا انصافیاں عام طور پر غیرصالح، غیر عادل اور غیرالہی حکمرانوں کی طرف سے تھیں اور وہی بنی نوع انسانی میں تفرقے اور اختلاف کے سبب رہے ہیں جنہوں نے انسانی معاشروں کو پارہ پارہ کردیا ہے۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کا پانچویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اسلام دوسرے انبیاء کا تسلسل ہیں اور دین واحد کی تکمیل کے لئے آئے ہیں۔انھوں نے کہا: رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رحمۃ للعالمین ہیں اور اس لئے مبعوث ہوئے ہیں کہ نوع بشر کو رشد اور کمال مطلوب تک پہنچائیں۔انھوں نے کہا: پیغمبر اکرم (ص) نے اسلام کا پیغام پہنچایا اور رسالت کو مکمل کیا لیکن انتظام و انصرام کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اور آپ (ص) کے بعد یہ ذمہ داری اہل بیت (ص) نے سنبھالی۔صدر نے کہا: انسانی معاشروں کے حقیقی ہادیوں کو ہر عیب اور نقص سے پاک اور کمال کی چوٹی پر فائز ہونا چاہئے کیونکہ ناقص اور معیوب قیادت کی وجہ سے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے چنانچہ ؛م اسی بنا پر اللہ تعالی نے اہل بیت (ع) کو بنی نوع انسانی کی ہدایت و قیادت کا عہدہ سونپا ہے اور اہل بیت (ع) کا تعلق پوری انسانیت سے ہے اور امامت کا تفکر ہی بنیادی طور پر پوری انسانیت کے لئے ہے جو رنگ و نسل اور ہر قسم کی عصبیتوں سے برتر و بالاتر ہے۔انھوں نے کہا: امیرالمؤمنین علی علیہ السلام تمام انسانوں کے امام ہیں اور معاشرے کے فکری قائدین کو ایسی ہی خصوصیات کا مالک ہونا چاہئے اور ان کا مطمع نظر تمام انسانوں کی ہدایت ہے۔صدر نے انسانی معاشروں پر مسلط غیر الہی منتظمین کی مذمت کرتے ہوئے کہا: امتیازی رویے، جنگیں، مظالم، رکاوٹیں غیرصالح، غیر الہی، اور غیر عادل حکمرانوں کی حاکمیت کا نتیجہ ہیں جو انسانی معاشروں کے درمیان اختلاف کا باعث بنے ہیں اور انھوں نے بنی نوع انسانی کو پارہ پارہ کردیا ہے۔ صدر اسلامی جمہوریہ نے غیر الہی اور عدل و انصافی حاکمیتوں کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گذشتہ ایک صدی کے دوران سینکڑوں جنگیں لڑی گئیں، 10 کروڑ سے زائد انسان موت کی گھاٹ اتار دیئے گئے اور قوموں کے جن سرمایوں کو انسانوں کی ترقی اور کمال کے لئے خرچ ہونا چاہئے تھا انہیں تباہ کن ہتھیاروں کی دوڑ میں خرچ کیا گیا اور آج تک یہ دوڑ جاری ہے اور ایسے ہتھیار تیار کئے جارہے ہیں جن سے انسانوں کے وسیع اور سریع قتل عام کا کام لیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: آج 11 ستمبر کا دن ہے اور یہ اس دن کی برسی ہے جب ایک پیشگی اور پیچیدہ منصوبہ بندی کی اساس پر انسانوں کے جذبات پر اثر انداز ہونے اور اسلامی سرزمینوں پر قابض ہونے کے لئے ایک کھیل کھیلا گیا اور عراق اور افغانستان پر قبضے کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد انسان لقمۂ اجل بن گئے اور کئی ملین افراد زخمی یا بے گھر ہوگئے۔صدر اسلامی جمہوریہ نے کہا: ہمارا فرض عالمی نظام تسلط کی نفی ہے کیونکہ دنیا میں جو ظلم ہورہا ہے وہ اسی نظام کا نتیجہ ہے، غربت و افلاس، بحران اور سنگین مسائل موجودہ دنیا کے ہوس پرست اور طاغوتی حکام کی حاکمیت کا نتیجہ ہے اور دلچسپ امر تو یہ ہے کہ یہ طاغوتی حکمران اپنے پیدا کردہ مسائل کے حل کے لئے اقوام عالم کی دولت صرف کرتے ہیں۔انھوں نے پیروان اہل بیت (ع) کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے کہا: پیروان اہل بیت کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ تمام انسانوں کی عزت و کرامت بحال کرنے کے لئے کوشاں رہیں اسی بنا پر ہمارا وجود پوری انسانیت کے لئے سراسر لطف و کرم ہونا چاہئے۔انھوں نے کہا: آج ایک اہم ذمہ داری جو پیروان اہل بیت (ع) کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ دنیا پر مسلط اس تسلط پسند نظام کی مکمل نفی کریں جو دنیا پر حاکمیت کا دعویدار ہے اور دنیا کے لئے فکر پیدا کرنے کا دعوی کرکے عالمی نظام پر اثر اندار ہورہا ہے اور دنیا کے سائنس، معاشی، فوجی انتظام کو مسخر کرکے اپنے آپ کو طاقت اور ہتھیاروں کے زور سے دنیا پر مسلط کرچکا ہے۔صدر نے کہا: انھوں نے آج آزادی کی حمایت کے بہانے عظیم آمریت کا بازار گرم کررکھا ہے اور برسہا برس سے قوم یہود کا دفاع کرنے کے بہانے مظلوم فلسطینیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہے ہیں اور چونکہ پیروان اہل بیت (ع) کی ایک اہم خصوصیت ظلم کے خلاف جدوجہد ہے لہذا یہ کیونکر ممکن ہے کہ انسان اہل بیت (ع) کی پیروی کا دعوی بھی کرے اور نام نہاد عالمی نظام کے خلاف قیام نہ کرے کیونکہ حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے فرمان کے مطابق جہاں بھی ظلم ہوگا وہاں جدوجہد بھی ہوگی اور جب تک جدوجہد ہوگی ہم بھی میدان میں حاضر و موجود ہوں گے۔
صدر نے کہا: امام عصر کا تعلق پوری انسانیت سے ہے جو بقیۃ اللہ ہیں اور بنی نوع انسانی کو اللہ کا سب سے آخری ہدیہ ہے۔انھوں نے عالمی حکومت اور امام زمانہ (عج) کے وجود کے تعارف کو اہم قرار دیا اور کہا: اگر ہم دنیا کی اصلاح چاہتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح چاہتے ہیں اور عدل و رحمت کے نفاذ کے خواہاں ہیں تو یہ سب چیزیں امام عصر (عج) کے سائے میں حاصل ہوتی ہیں۔انھوں نے کہا: امام عصر (عج) کا تعارف اور انسانوں کو ان کی طرف دعوت درحقیقت وحدت کا محور ہے اور مسلمانوں اور شیعیان اہل بیت (ع) اور انسانی معاشرے کے اتحاد کے لئے امام زمانہ (ع) کے وجود کے سوا کوئی محور موجود نہیں ہے۔انھوں نے کہا: انسانیاتی (Humanistic) اور لبرل نظریات کے مقابلے میں واحد حکمفرما نظریہ امام زمانہ (عج) کی عالمی حکومت کا نظریہ ہے جو بعض لوگوں کے بقول اختلاف کا باعث بن رہا ہے اور ہم پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کہیں کہ باعث اختلاف نہ ہو؟ کیا ہم توحید کی دعوت دیں؟ تو ہم کہیں گے کہ امریکہ کے سابق صدر بھی خدا پرستی کے دعویدار تھے لیکن آپ نے دیکھا کہ کیا حادثہ رونما ہوا؟ لیکن امام زمانہ (عج) کی حکومت کی طرف دعوت ایسی حقیقت ہے جس کی صداقت کی سب گواہی دیتے ہيں اور سب اس کے منتظر ہیں۔ سارے انسان تہہ دل سے موجودہ عالمی نظام کو مسترد کرتے ہيں اور ایک عظیم نجات دہندہ اور بت شکن کے منتظر ہيں؛ پس ظاہر ہوتا ہے کہ مہدوی حکومت کی جانب دعوت درحقیقت وحدت کی جانب دعوت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110