2 ستمبر 2011 - 19:30

ترکی کے صدر کے مشیر اعلی ارشاد ہرمزلو نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے خلاف اختیار کی گئيں تدابیر صرف ابتدائي تدابیر ہیں۔

ابنا: ارشاد مرمزلو نے صہیونی ریاست کے ساتھ فوجی اور سفارتی تعلقات کو محدود کئے جانے پر مبنی ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو کی اعلان شدہ تدابیر کی بنیاد پر کہا کہ ترکی کی دوستی سے محرومی اسرائیل کو پہنچنے والا پہلا نقصان ہے۔ ترکی کے صدر نے بھی صہیونی حکام کو خبردار کیا ہے کہ انقرہ کے مطالبے اور بین الاقوامی قوانین سے چشم پوشی جاری رکھنے پر اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت اقدامات کئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ صہیونی ریاست کی طرف سے فریڈم فلوٹیلا میں شامل ترک جہاز پر حملے اور ترکی کے نو باشندوں کے قتل کے سلسلے میں معافی نہ مانگنے کی وجہ سے انقرہ میں صہیونی ریاست کے سفیر کو گزشتہ روز ترکی سے نکال دیا گيا۔ اطلاعات کے مطابق ترک حکومت نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلاتے ہوئے اس کے ساتھ فوجی تعاون کو معطل کردیا ہے۔ دریں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ترکی سے صہیونی ریاست کے سفیر کو ملک بدر کئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے آزاد بین الاقوامی تحقیقات کے نتائج بدلنے کے سلسلے میں صہیونی ریاست کے اثر و رسوخ کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے غزہ کے سمندر میں ترکی کے امدادی جہاز پر حملے پر مبنی صہیونی ریاست کے جرائم کے بارے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی تیاری میں اس غاصب حکومت کی طرف سے اثر رسوخ استعمال کئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔غزہ کے سمندر میں ترکی کے امدادی جہاز پر حملے میں صہیونی ریاست کے جرائم کے بارے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر بہت سے سفارتی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس رپورٹ میں غزہ کے محاصرے کے صہیونی ریاست کے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کو ایک طرح سے جائز قرار دیا گيا ہے۔ ادھر فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ترکی سے صہیونی ریاست کے سفیر کو ملک بدر کئے جانے کے ترک حکومت کے اقدام کی ستائش کی ہے۔ غزہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے کہا ہے کہ ترکی سے صہیونی ریاست کے سفیر کو نکالے جانے کا اقدام ترکی کے امدادی جہاز پر اسرائیل کے حملے کا جواب اور غزہ کے محاصرے کی مخالفت ہے۔............. /169