23 اگست 2011 - 19:30

دشمنان اسلام نے چکوال میں امام بارگاہ حسینیہ سے نکلنے والے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے عزاداروں کے ایک دستے پر حملہ کرکے 4 عزاداران علی (ع) کو شہید کردیا جبکہ کراچی اور ڈی آئی خان میں بھی دو مختلف حملوں میں دہشت گردوں نے دو افراد کو شہید کردیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق چکوال کے امیرپور منگن میں غیرقانونی اور کالعدم دہشت گرد ٹولے کے مقامی سرغنے قاضی ظہور نے اپنے دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ مل کر 21 رمضان کو امامبارگاہ حسینیہ پر 4 گھنٹوں تک فائرنگ کی جبکہ معاشرے کے امن و سلامتی پر مأمور پولیس والے صرف تماشا دیکھتے رہے۔ اس حملے میں آٹھ عزادار زخمی ہوئے۔مقامی ذرا‏ئع کے مطابق "قانون نافذ کرنے والے" (!؟) اداروں کے اہلکار اندھے دکھائی دے رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق عزاداروں کے ماتمی دستے امامبارگاہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تاہم یزیدی دہشت گرد علم کو آگ لگانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس حملے میں شدید فائرنگ کی وجہ سے امامبارگاہ کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔کراچی میں دہشت گردی کی کاروائی ایک شیعہ ایک حملے میں امین مرزا کے فرزند 23 سالہ زین مرزا گھر کی طرف جاتے ہوئے عسکری پارک کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔ دشمنان اہل بیت (ع) نے ان کے سر اور دل میں گولیاں ماری تھیں جن سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔ڈی آئی خان میں ایک شیعہ شہیدڈی آئی خان میں 40 ساله ای سید اعجاز حسین شاہ ولد سید فدا حسین شاہ کے گھر پر یزید کے پیرکار دہشت گردوں نے حملہ کیا؛ ان کے گھر میں زبردستی داخل ہوئے اور ان پر فائرنگ کردی جس سے سید اعجاز حسین قافلہ شہدائے پیروان سیدالشہداء (ع) سے جاملے۔ شہید سید اعجازحسین پانچ بچوں کے باپ اور ڈرائیور تھے۔ .........

/110