ابنا: پہلا دھماکا پشاور کے علاقے لاہوری گیٹ میں پولیس ٹرک کے قریب ہوا جس سے ایک بچے سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے اور 37 افراد زخمی ہوگئے ہیں زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق لاہوری گیٹ دھماکے میں 8کلو گرام دھماکہ خیزمواد استعمال ہوا ۔ پہلے دھماکے کے چند لمحوں بعد ہی ایک اور خاتون خود کش بمبار نے 50گز کے فاصلے پر لگے ہوئے ناکے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں وہ خود ہلاک جبکہ پاس کھڑے2افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دونوں خود کش حملہ آوروں کا نشانہ اعلیٰ پولیس اہلکار تھے۔ خیبر سپرمارکیٹ میں گیارہ جون کی شب ہونے والے دھماکوں کے دو ماہ بعد پشاور کے سٹی سرکلر روڈ پر دو دھماکوں سے شہر کی فضاوں میں ایک بار پھر خوف کے بادل چھا گئے۔ پشاور کے سٹی سرکلرروڈ پر لاہوری گیٹ کے باہر پولیس چیک پوسٹ کے قریب پہلا دھماکہ صبح سوا سات بجے اس وقت ہوا۔ جب تھانہ کوتوالی کا ایک ٹرک پولیس اہلکاروں کو لے کر وہاں سے گذر رہا تھا۔ دھماکے میں چار پولیس اہلکار اور ایک بچہ موقع پر جاں بحق اور اکیس زخمی ہوئے۔ جبکہ ایک پولیس اہلکار نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔ ایک اطلاع کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک ریڑھی میں نصب کیا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔ واقعے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد اسی مقام پر ایک خاتون خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ایک خاتون جاں بحق اور سولہ افراد زخمی ہوئے۔ خود کش بمبار خاتون کی لاش بھی اسپتال پہنچائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق خود کش جیکٹ پوری طرح پھٹ نہیں سکا۔ جس کی وجہ سے دوسرے دھماکے میں جانی نقصان نسبتاً کم ہوا ہے۔ دہشتگردوں نے خواتین کو استعمال کرنا شروع کردیا، میاں افتخار صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کا جہاد جاری رہے گا پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گرد بے گناہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور اب دہشت گردی کے واقعات میں بچوں کے بعد خواتین کو استعمال کرنا شروع کر دیا گیاہے ۔ پشاور حملہ ،پاکستان میں تیسرا خاتون خودکش دھماکا آج پشاور میں ہونے والاپاکستان کی تاریخ کا تیسرا خود کش دھماکا تھا جو خاتون حملہ آور نے کیا۔آج جمعرات کو پشاور میں دو گھنٹوں میں دو بم دھماکے ہوئے جس میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے اور 37 زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق دوسرا دھماکا خاتون خود کش حملہ آور نے کیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں خاتون حملہ آور کی طرف سے یہ تیسرا خود کش دھماکا ہے۔پشاور میں خو دکش حملہ آور خاتون کی عمر17یا 18برس تھی،جس نے 20میٹر کی دوری پر پولیس چیک پوسٹ پر ہینڈ گرینیڈ پھینکے اس کے بعد اپنے آپ کو اڑا لیا۔ پاکستان کی تاریخ میں خاتون حملہ آور کی طرف سے کیا جانے والا 25دسمبر2010میں باجوڑ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر خار میں عالمی ادارہ خوراک کے دفتر کے باہر لیویز چیک پوسٹ پر پہلاخود کش حملہ تھا جس میں 45 افراد جاں بحق اور 72 زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق تقریباً 24سالہ خاتون حملہ آور نے پہلے ہینڈ گرنیڈ پھینکے اور پھرخود کو دھماکے سے اْڑا لیا۔ دوسرا خودکش دھما کا جسے خاتون حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑایا وہ 25جون2011 میں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں پولیس تھانے ہونے والا خودکش حملہ تھا جس میں مقامی طالبان عسکریت پسندوں نے پہلی مرتبہ اپنی کسی کارروائی میں خاتون خود کش بمبار کو استعمال کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے تصدیق کی تھی کہ کلاچی تھانے پر حملہ کرنے والے خود کش بمبار میاں بیوی تھے اس حملے سے ایک ہفتہ قبل ضلع دیر میں آٹھ سالہ لڑکی کو کو حراست میں لیا گیاتھا جو خودکش جیکٹ پہنے پولیس چوکی پر حملہ کرنے والی تھی۔دسمبر 2007میں ایک خود کش حملہ آور خاتون نے پشاور چھاوٴنی میں سڑک کنارے فوجی چیک پوسٹ کے قریب اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا،تاہم بعد میں حکام نے کہا کہ وہ خاتون حملہ آور نہیں بلکہ دھماکا خیز مواد لے کر جارہی تھی جس کو کسی نے ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا۔ادھر خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ ميں ایک گھر کے اندر بارودی مواد کا دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 3 بچے اور 2 خواتین جاں بحق ہوگئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
/110