اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے علماء نے ایک بیان جاری کرکے افغانستان میں دائمی امریکی اڈوں کے قیام کو کسی بھی عنوان کے تحت، حرام قرار دیا ہے۔ علمائے افغانستان نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو ان اڈوں کی حمایت میں اظہار خیال کرتے ہیں وہ فاسق ہیں اور گناہ کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اس بیان کے تحت جو درحقیقت ایک اجتماعی فتوی ہے، افغانستان میں امریکی اڈوں کا قیام قرآن مجید اور احادیث نبوی نیز علمائے کرام کے فتووں کی رو سے کفار کی پیروی اور کفار کے ساتھ دوستی کے زمرے میں آتا ہے اور کفار کے ساتھ دوستی اور ان کی پیروی حرام ہے۔ کابل کے علماء نے اپنے اس بیان میں کہا ہے کہ آیات قرآنی کے مطابق مسلمانوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ حتی اپنی تقویت کی غرض سے کفار کو اپنا دوست قرار دے اور وہ لوگ جو کفار کے ساتھ دوستی اختیار کرتے ہیں وہ اللہ کی دوستی سے محروم ہونگے۔انھوں نے کہا ہے کہ کافر صرف اسی صورت میں مسلم ملک میں قیام کرسکتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ذمے میں ہوں اور جزیہ ادا کریں اور ان کے پاس مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی طاقت نہ ہو اور اگر مسلم ملک میں کفار کا قیام کسی بھی عنوان کے تحت، مسلمانوں پر کفار کے غلبے کا باعث بنیں تو قرآن کی نصّ کے مطابق حرام ہے اور کسی مسلمان کو بھی اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا حق نہیں ہے۔علمائے افغانستان نے اس سلسلے میں کسی بھی معاہدے اور میثاق و پیمان کو حرام قرار دیتے ہوئے افغان حکام کو خبردار کیا ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ اس طرح کے اڈوں کے خلاف مزاحمت ملت افغان کے ہر فرد پر واجب ہے۔ افغان علماء نے اپنے بیان یا فتوے کے آخر میں افغان معاشرے کے تمام گروہوں سے اپیل کی ہے کہ اس ملک کو موجودہ برائیوں اور بیرونی مداخلات سے بچانے کے لئے متحد ہوجائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
