ابنا: پاکستان بار ايسوسي ايشن نے پاکستان ميں ہمجنس بازي کے فروغ ميں امريکي سفارت خانے کي مذموم کوششوں کي مذمت کرتے ہوئے ملک کے اعلي حکام اور عدليہ سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ ان اقدامات کي روک تھام کے لئے لازمي اقدامات کرے- بار ايسوسي ايشن کے صدر ہارون الرشيد نے يہ بات زور ديکر کہي ہے کہ کسي بھي ملک کو پاکستان کي سرزمين پر سازشوں اور بدکاري کے مراکز قائم کرنے کا حق حاصل نہيں ہے- انہوں نے ملکي عدليہ اور اعلي حکام سے مطالبہ کيا کہ وہ امريکي سفارت خانے کے گھناؤنے، ناپسنديدہ اور اسلام مخالف اقدامات کے خلاف سخت کاروائي کرے-
کہا جارہا ہے کہ اسلام آباد کے امريکي سفارت خانے سے وابستہ حلقوں نے کراچي، پشاور، لاھور اور کوئٹہ ميں بدکاري کے مراکز قائم کررکھے ہيں اور وہ پاکستاني نوجوانوں کو مناسب روزگار کي فراہمي ، ايڈز سے بچاؤ اور امريکي ويزے کے فوري اجرا کا لالچ ديکر انہيں فحاشي کے ان مراکز ميں آنے کي ترغيب دلاتے ہيں- پاکستان ميں ہمجنس بازي کي ترويج اور امريکہ کے دوسرے اسلام مخالف اقدامات پر پاکستان کے عوام اور علمائے کرام نے شديد ردعمل ظاہر کيا ہے-
حال ہي ميں امريکي سفارت خانے ميں ہمجنس بازوں کے اجلاس کي خبر سامنے آنے کے بعد، پاکستان کي طلبہ برادري نے مظاہرے بھي کئے تھے جس ميں امريکہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے- پاکستان کي جماعت اسلامي نے بھي اس طرح کے اجلاس کو ملک کے خلاف ثقافتي دہشتگردي قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ يہ اقدام ملک کے شمال مغربي علاقوں پر امريکي ڈرون حملوں سے زيادہ خطرناک ہے- جماعت اسلامي پاکستان کے رہنما سيد منور حسن نے يہ بات زور ديکر کہي ہے کہ امريکہ پاکستان ميں فحاشي اور بدکاري کے مراکز کے قيام اور اس ملک کے اندروني معاملات مداخلت کرکے پاکستان کے عظيم اسلامي سماج کو سنگين نقصان پہنچانے کي کوشش کر رہا ہے-
پاکستان کے علمائے کرام نے بھي امريکي سفارت خانے کي جانب سے ہمجنس بازوں کي سرپرستي کو پاکستاني عوام کي توہين کے مترادف قرار ديا ہے- پاکستاني علما نے حکومت پاکستان کو خـبر دار کيا ہے کہ اگر اس نے امريکہ کے اسلام مخالف اقدامات کے خلاف سخت کاروائي نہ کي تو اسکے سنگين نتائج بھگتنا پڑيں گے- ادھر کراچي سے شائع ہونے والے اخبار امت نے اپني رپورٹ ميں لکھا ہے کہ امريکي سفارت خانے نے پاکستان ميں ہمجنس بازي کے فروغ کے لئے بھاري رقم خرچ کي ہے اور اسکي کوشش ہے کہ پاکستان ميں ہمجنس بازوں کے خصوصي مراکز قائم کرکے عوام کو بے راوہروي کا شکار بنايا جائے- اس رپورٹ کے مطابق امريکي سفارت خانے نے پاکستان ميں ہمجنس بازوں کے مراکز قائم کرنے کي کوششيں تيز کردي ہيں اور ان گھناؤني سرگرميوں کا دائرہ اب کراچي اور لاہور تک پھيلا ديا ہے- پاکستاني عوام اور علمائے کرام کے شديد احتجاج کے باوجود امريکہ نے بڑي ڈھٹائي کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ پاکستان ميں ہمجنس بازوں کے حقوق کي حمايت کرتا ہے اور ان لوگوں کا ساتھ ديتا رہے گا-
.............
/169