ابنا: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ 9 مارچ 2007ء کے نرم انقلاب کے بعد عدلیہ سے عوام کے توقعات میں اضافہ ہوگیا ہے جس پر پورا اترنے کیلئے بنچ اور بار کو مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے،عام آدمی کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اور عدلیہ سے کرپشن کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے، کرپشن ایک لعنت ہے جس سے ادارے کھوکھلے ہوچکے ، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان ماتحت عدلیہ سے کرپشن کے خاتمے کیلئے کلیدی کردار ادا کریں، آئین و قانون کے مطابق انصاف تک رسائی ہر شخص کا بنیادی حق ہے،وکلاء پیشے کی بدنامی کا باعث بننے والے وکیلوں کی نشاندہی اور آئینی معاملات میں عدالت کی معاونت کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں سپریم کورٹ میں نئے وکلاء کی انرولمنٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے جج صاحبان، ایڈووکیٹ جنرل، سینئروکلاء اور دیگرحکام نے شرکت کی۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج سے سپریم کورٹ کے وکیل مقرر ہوئے ہیں ،عوام کو سستے انصاف کی فراہمی کیلئے کرداراداکریں اور وکلاء کے پیشے کی بدنامی کا باعث بننے والے وکیلوں کی نشاندہی کریں، سپریم کورٹ بار کو اس حوالے سے آگاہ کریں۔انہوں نے کہاکہ عوام کو سستے اور فوری انصاف تک رسائی دینا ہماری پہلی ترجیح ہے ، ججوں کا کام فیصلہ دینا ہوتاہے ۔انہوں نے کہا کہ بنچ اور بار سے لوگوں کی بہت زیادہ توقعات ہیں، ان توقعات کوپورا کرنے کیلئے دونوں کوملکرکام کرناہوگا ،وکلاء کا کام عدالت کی معاونت کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کے 9 مارچ کی تحریک کے بعد عدلیہ سے توقعات بڑھ چکی ہیں، ان توقعات پر پورا اترنے کیلئے ضروری ہے کہ بنچ اور بار دونوں عوام کو انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کا فرض ہے کہ وہ قانونی سوالات اور آئینی معاملات میں عدالت کی معاونت کیلئے آگے بڑھیں، مجھے امید ہے کہ آپ سپریم کورٹ کے وکیل بننے کے بعد انصاف کی فراہمی میں عام آدمی کے ساتھ تعاون کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کے مطابق انصاف تک رسائی ہر شخص کا بنیادی حق ہے ، ہم نے عوام کو انصاف کی فراہمی اور عدلیہ سے کرپشن کے خاتمہ کیلئے قومی جوڈیشل پالیسی متعارف کرائی ہے،وکلاء اس نظام کی بہتری کیلئے تجاویز دے سکتے ہیں۔ دریں اثناء چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم عدلیہ سے کرپشن کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں ہم نے عدالتی نظام میں شفافیت لانی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے عدلیہ میں کرپشن کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا اب تک کئی جوڈیشل افسران کو فارغ کیا جا چکا ہے اور اب بھی ہم عدلیہ سے کرپشن کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے وکلاء سے کہاکہ آپ عدلیہ میں کرپٹ عناصر کی نشاندہی کریں اور قانونی پیشہ کو پاک کرنے کیلئے بار کونسلوں میں بھی اپنی شکایات درج کروائیں۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء تحریک نے معاشرے میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے اس تحریک کی ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے حمایت کی۔ اس تحریک نے عدلیہ میں ایک نیا جذبہ پیدا کیا اور قانون کے شعبے پرلوگوں کے اعتماد کو بڑھایا۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قانون کی حکمرانی قائم کرکے اس پیشہ سے اپنے عزم کا اظہار کریں۔ انہوں نے مزید کہاکہ بنچ اور بار کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے دونوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ وکیل کی یہ ذمہ داری ہے کہ عدالت کی معاونت کرے اور جج کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلہ سنائے۔ وکلاء کے تعاون کے بغیر انصاف کا حصول ممکن نہیں ہے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں نئے انرول ہونے والے وکلاء سے کہاکہ ان کی زندگی کا یہ سنگ میل ہے کہ ان کو بطور انرول کیا جا رہا ہے۔ تقریب کے دوران 29 نئے وکلاء کا اندراج کیا گیا جن میں بلوچستان سے 13، پنجاب سے 13، سندھ سے 2 اور کے پی کے سے ایک وکیل شامل ہے۔انرول ہونے والے وکلاء میں سینیٹر رضا ربانی بھی شامل تھے تاہم وہ مصروفیت کے باعث نہ آسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110