ابنا: پاکستان اور ایران نے عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کیلئے علاقائی طرز فکر اختیار کرنے ، توانائی ، تجارت اور معیشت سمیت دیگر شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مشترکہ کوششیں دہشت گردی کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔
پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اسمگلنگ سے بچنے کیلئے پاکستان اور ایران کے درمیان ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی میں تجارت کرنے کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے ترکی سری لنکا اور چین کے ساتھ پہلے سے مذاکرات کر رہا ہے۔
صدر زرداری نے اس بات کی مذمت کی کہ ہمارے دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے مشکلات پیدا کررہے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے الگ الگ ملاقاتیں کرتے ہوئے کیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صدر زرداری پر واضح کیا کہ پاکستان کا حقیقی دشمن امریکا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق صدر زرداری جمعہ کو صدر احمدی نژاد کے ساتھ مذاکرات کیلئے تہران پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر اور علیحدگی میں ہونیوالی ملاقات میں عسکریت پسندی اور انتہاء پسندی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کیلئے علاقائی طرز فکر اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے طویل مدتی اقدامات اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک، وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر، وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین اور صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر بھی صدر زرداری کے ہمراہ موجود تھے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق صدر زرداری نے ایرانی ہم منصب کے ساتھ کثیر جہتی امور پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹرٹیجک اور اقتصادی شراکت داری کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی۔صدر زرداری نے تجویز پیش کی کہ ایرانی حکومت پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی امور سے متعلق آئی بی ایم آر معاہدے پر غور کرے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کا خطے کے امن اور استحکام میں مفاد ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ خطے میں منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومتوں کے مابین باہمی روابط ضروری ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان افغانستان اور ایران کی شرکت سے سہ فریقی اقدامات خطے میں منشیات اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہونگے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے اور ایران سے بلوچستان کو بجلی کی فراہمی سمیت توانائی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ افغانستان میں مواصلاتی رابطوں کے فروغ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ریلوے اور سڑک کے منصوبوں کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ میگا پراجیکٹس میں سہ فریقی تعاون بھی کر سکتے ہیں۔ ایرانی صدر نے پورے خطے بالخصوص دونوں ممالک میں ترقی کے نئے دور کے آغاز کیلئے جیو اسٹرٹیجک محل وقوع سے بھر پور استفادے پر اتفاق کیا۔