ابنا: يمن کے عوام نے اپنے ملک کے داخلي امور ميں امريکا اور سعودي عرب کي مداخلت پر سخت اعتراض کيا ہے- پريس ٹي وي کي رپورٹ کے مطابق يمن کے دارالحکومت صنعا اور تعز ميں مظاہرين نے يمن کا ڈکٹيٹر عبداللہ صالح واپس نہيں لوٹے گا جيسے نعرے لگاتے ہوئے يمن کے داخلي امور ميں امريکا اور سعودي عرب کي مداخلت کي مذمت کي- مظاہرين نے اسي طرح ايک بار پھر علي عبداللہ صالح اور اس کے حاميوں پر مقدمہ چلانے کے ليے عبوري کونسل کي تشکيل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ يمن کا ڈکٹيٹر اور اس کے حامي مجرم ہيں-تعز شہر ميں سيکورٹي فورسز کي جانب سے حکومت کے مخالفين کي زبردست سرکوبي کے باوجود لوگوں نے مظاہرے کرکے اقتدار سے عبداللہ صالحي کي بے دخلي کا مطالبہ کيا- اس شہر ميں مظاہرين پر عبداللہ صالح کے حامي فوجيوں کے حملوں ميں کم از کم متعدد افراد جاں بحق اوربہت سے زخمي ہوگئے- عبداللہ صالح کے فوجيوں نے ٹينکوں اور مارٹر کے گولوں سے تعز شہر کے مختلف گھروں کو نشانہ بنايا- اطلاعات کے مطابق تعز شہر کے الحريہ، حي المسبح، الروضہ اور جبل جرہ علاقوں پر يمن کے صدارتي گارڈ کے اہلکاروں نے ٹينکوں، توپخانے اور ہلکے اور بھاري ہتھياروں سے حملہ کيا-يمن کے ڈکٹيٹر علي عبداللہ صالح کے خلاف شروع ہونے والي عوامي تحريک کے بعد سے تعز شہر پر يمني سکورٹي فورسز کے يہ اب تک کے سب سے سنگين حملے ہيں جن کے سبب اس شہر کے لوگوں ميں خوف و وحشت طاري ہو گئي ہے- دريں اثنا سعودي عرب نے يمن ميں خانہ جنگي کرانے کي سازش پر عمل کرتے ہوئے حوثي قبيلے کے قتل عام کے ليے يمن کے ديگر قبائل اور جماعتوں کو کروڑوں ڈالر ادا کيے ہيں- العالم ٹي وي چينل کي رپورٹ کے مطابق سعودي عرب کي حامي ايک جماعت اور حوثي قبيلے کے افراد کے درميان ہونے والي جھڑپ ميں تيس افراد مارے گئے ہيں- يمن کے ايک سيکورٹي ذريعے نے بتايا ہے کہ سعودي عرب کي حامي جماعت مجمع اصلاحات اور حوثي قبيلے کے درميان جنگ بندي ٹوٹ جانے کے بعد فريقين کے درميان زبردست جھڑپيں ہوئي ہيں اور دونوں طرف کے لوگ ايک دوسرے کے خلاف ہلکے اور بھاري ہتھياروں کا استعمال کر رہے ہيں-واضح رہے کہ حوثي قبيلہ، کافي عرصے سے يمن کے ڈکٹيٹر علي عبداللہ صالح کي حکومت کے خلاف جد و جہد کر رہا ہے- سعودي عرب نے يمن کے ڈکٹيٹر کي حمايت پر زور ديتے ہوئے، حوثي قبيلے کي سرکوبي کے ليے اپنے فوجي اور مالي وسائل کا استعمال کيا ہے ــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169