4 جولائی 2011 - 19:30

عالمی رائےعامہ کواب اس بات میں کوئی شک باقی نہيں رہ گیا ہے، کہ امریکہ پوری دنیامیں ہرجگہ اپنی موجودگی چاہتاہےتاکہ اپنےمفاد کےتحت ان علاقوں میں مداخلت کرسکے۔

ابنا: چاہےوہ چین وتائیوان کامسئلہ ہویا شمالی کوریاوجنوبی کوریاکاموضوع، ہندوستان وپاکستان کی بات ہویاافغانستان وپاکستان کی، ماضی میں عراق وایران کامسئلہ رہاہو یاحال میں شام ولیبیاکابحران، امریکہ بہادرکی ہرجگہ موجودگی اس لئےضروری ہےکہ وہ بزعم خود یہاں کےعوام کوجمہوریت وخودمختاری دلاناچاہتاہےتاکہ اس کی مداخلت کی راہ ہموارہواورآئندہ اس کےمفادات پورےہوں اوراگراسےقدرتی ذخائرسےمالامال خطےمشرق وسطی کی بات ہوتوپھرکیاکہنےچنانچہ اگرمشرق وسطی کےکسی ملک میں اگرغاصبانہ سلطنت اورایک ہی خاندان کی آمریت کابول بالا ہوتوبھی وہ نہ صرف ان آمروں کےمظالم پرخاموش رہتاہےبلکہ اپنےحقوق کےحصول کےلئےپرامن مظاہروں کی شکل میں جدوجہدکرنےوالےمظلوم اورنہتھےعوام کوکچلنےمیں آمروں کی مدد بھی کرتاہے۔جبکہ بعض ملکوں کےعدالتی امورمیں بھی امریکہ صرف اس لئےمداخلت کرتاہےکہ اس کےفیصلےاس کےمفادات یاپالیسیوں کےبرخلاف آنےکاامکان ہوتاہے۔حالات پرنظررکھنےوالوں پریہ امرہرگزپوشیدہ نہيں ہے اور ساری دنیاجانتی ہےکہ سعودی عرب کےشاہی سلسلےنےقبضےکےبعد پورےملک کانام اپنےاجداد کےنام پررکھ لیا اورسرزمین حجاز کوسعودیہ بنادیالیکن چونکہ وہاں بادشاہت اس کی پالیسیوں پرموبہ موعمل کررہی ہےاس لئے اسےعوام کےحقوق اورجمہوریت کاخیال کبھی نہيں آتا لیکن اگرکسی ملک میں دیہی کونسلوں سےلےکربلدیہ تکہ اورپارلیمنٹ سےلےکرصدرجمہوریہ تک عوام کےووٹوں سےمنتخب ہوتےہوں لیکن امریکی پالیسیوں پرعمل نہ ہوتاہوتواسےصفحہ ہستی سےمٹادینے اورملک کی اینٹ سےاینٹ بجادینے کی کوشش کی جاتی ہے۔شام میں عوام کےمنتخب صدر کےخلاف سازشیں کی جاتی ہیں اورسماج کےایک طبقےکواسلحہ اورسرمایہ فراہم کرکےسڑکوں پرلایاجاتاہے اورمنتخب حکام پرپابندیاں عائدکی جاتی ہیں جبکہ بحرین میں میہنوں سےاپنےمطالبات کےلئےپرامن مظاہرہ کرنےوالوں کوکچلنےاورعقوبت خانوں میں تشدد کانشانہ بنائےجانےنیزفوجی عدالتوں میں مقدمہ چلاکرعمرقیددیےجانےاورڈاکٹروں کوصرف زخمیوں کےعلاج کےجرم میں بدترین سزاؤں کامستحق قراردیئےجانےکےباوجود آمرحکومتوں کی مکمل حمایت کی جاتی ہےکیونکہ اس ملک میں امریکہ کےفوجی اڈےہیں جنھیں وہ اپنےمخالفین کےخلاف موقع آنےپراستمعال کرسکتاہے۔بحرین میں مظاہرین کےزخموں پرمرحم رکھنےوالےڈاکٹروں پرفوجی عدالت میں مقدمہ چلایاجاتاہے توامریکہ اس لئےخاموش رہتاہےکہ وہ عدالت اس کےمفادات پورےکررہی ہے لیکن لبنان کی عدلیہ کو کواپنےشہری کےقتل کی سماعت کاحق اس ليےنہيں دیاجاتاکہ اس بات کاپورایقین نہيں ہوتاکہ فیصلہ پوری طرح امریکہ وصیہونیت کےمفاد کےمطابق آئےگااوروہ اس قتل کےذریعےاپنےجس مخالف گروہ یاشخص کونشانہ بناناچاہتےہیں وہ کہیں بے گناہ نہ ثابت ہوجائے۔اوراس کی تازہ مثال رفیق حریری قتل کیس کی سماعت ہے۔لیکن سوال یہ پیداہوتاہےکہ کیاملک میں آزاد عدلیہ کی موجودگی کےباوجود امریکی وصیہونی زیراثررہنےوالی عالمی عدالت کےفیصلےکی کوئي قانونی حيثیت ہے؟ بالخصوص ایسی صورت ميں جب لبنان کی مختلف سیاسی جماعتیں اس کیس میں اس عدالت کی غیرجانبداری پریقین نہيں رکھتیں چنانچہ اس سلسلےمیں لبنان کی سب سےمضبوط سیاسی جماعت حزب اللہ لبنان نے اس پرکھل کراپنےشکوک کااظہاربھی کیاہے۔ لیکن حزب اللہ کے ایک سینئر عہدیدار شیخ نبیل فاروق نے لبنان کے سابق وزیر اعظم کے قتل کے بارے میں بنائي گئي بین الاقوامی عدالت کو ایک صہیونی عدالت قراردیتے ہوئے کہا کہ ہم اس راستے سےصیہونی حکومت کو لبنان میں اپنا اثر پیدا کرنے کی اجازت نہيں دیں گے ۔ شیخ نبیل فاروق نے کہا کہ پس پردہ جتنے بھی اقدامات ہورہے ہيں ان سے صاف ہوگیا ہے کہ یہ عدالت اسرائیلی مفادات کے لئے کام کررہی ہے .انھوں نے کہا کہ اس عدالت کی پہلے دن سے ہی کوئي قانونی حیثیت نہيں تھی اس کے فیصلے پر ہیگ، نیویارک یا کہیں اور عمل درآمد ہوسکتا ہے لیکن اس عدالت کے فیصلے کی لبنان میں کوئي جگہ نہيں ہے ۔ شیخ نبیل فاروق نے کہا کہ اگر یہ عدالت ہمارے خلاف ایک عالمی ہتھیار کے طور پر آئے گی تو ہم اس کے سامنے خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اس عدالت کے ذریعہ لبنان میں صہیونی حکومت کے اثر و رسوخ کا یوں ہی تماشانہیں دیکھتےرہیں گے۔المنارنیوز ایجنسی نے ثبوت و شواہد پیش کرتےہوئے کہاہے رفیق حریری کے قتل میں صیہونی حکومت ملوث ہے۔ لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے کہا ہےکہ رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کا فیصلہ قابل نفاذ نہیں ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو نہایت بے اہمیت قراردیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو سیاسی نوعیت کا قراردیا اور کہا کہ آج لبنان کو استحکام و امن وامان کی ضرورت ہے۔ حریری قتل کیس عدالت نے کل ایسے موقع پر اپنا ابتدائي فیصلہ لبنانی حکومت کے حوالہ کیاتھا جب میقاتی کی کابینہ اپنا ورکنگ پلان بنارہی تھی۔ لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ نزیہ منصور نے رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کے فیصلےکو غیر قانونی اور سیاسی قرار دیتے ہوۓ کہا ہےکہ اس عدالت کا مقصد لبنان کو امریکہ سےوابستہ کرنا ہے۔ نزیہ منصور نے کہا ہے کہ رفیق حریری قتل کیس کے سلسلے میں بین الاقوامی خصوصی عدالت کی تشکیل لبنان کے آئين کے منافی اور اس کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔ نزیہ منصور نے اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ نئی حکومت کا بیان ملک کے اقتدار اعلی ، استحکام اور سلامتی پر تاکید کرتا ہے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کۓ جانے کا مقصد لبنان کی نئي حکومت کے کام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ لبنان کے رکن پارلیمنٹ مروان فارس نے بھی رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کے فیصلے کو لبنان میں بحران پیدا کرنے کی امریکہ اور اس کےعلاقائی اتحادیوں کی سازش قرار دیا ہے۔یہ تمام حقائق اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیداہوتاہےکہ امریکہ کورفیق حریرقتل کیس میں اتنی دلچسپی کیوں ہےیہی سوال جب میں نےشام میں مقیم پاکستانی تجزیہ نگارشفقت شیرازي سےکیاتوانھوں نےکہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سامعین جیساکہ شفقت شیرازی نےبھی کہاکہ امریکہ کولبنان یارفیق حریری سےکوئي دلچسپی نہيں ہےبلکہ وہ ان تمام قوتوں کوختم یاکمزورکرناچاہتاہےجوصیہونی حکومت کےسامنےاستقامت کامظاہرہ کررہی ہيں یاعلاقےمیں اس کےمفاد کی راہ میں روکاوٹ بنی ہوئی ہيں۔اوریہی وجہ ہےکہ حزب اللہ لبنان کواس کےعتاب کاسامناہے۔

 ............

/169