ابنا: انہوں نے بتایاکہ یہ تاثرغلط ہے کہ پولیس اورجرائم پیشہ عناصر کے درمیان کوئی روابط ہیں۔گورنر ہاوٴس کراچی میں واقع سی پی ایل سی کے دفترکے دورے کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو میں آئی جی سندھ نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور اسٹریٹ کرائم روکنے کیلئے موٴثر اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ جہاں رینجرز کی ضرورت ہوگی وہاں ان کوطلب کرلیاجائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں واجد علی درانی کا کہنا تھا کہ دو گروہوں کے درمیان ہونے والی فائرنگ تھمنے کے بعد ہی پولیس متاثرہ علاقوں میں داخل ہوتی ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ پولیس اورجرائم پیشہ عناصر کے درمیان کوئی کوآرڈی نیشن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز