25 جون 2011 - 19:30

کراچی…شدید گرمی اور حبس میں بجلی کی آٹھ سے دس گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے کراچی کے شہریوں کو بے حال کردیا ہے۔

ابنا: دن بھر محنت مزدوی کے بعدرات کو بھی بجلی نہ ہونے کے باعث چین نہیں ملتا۔مختلف علاقوں میں کیبل فالٹس، تو بعض جگہ پی ایم ٹی خراب ہونے کی شکایات ہیں ،ہر جگہ مسائل کا انبار لگا ہو اہے۔ایسے میں مہنگائی میں گھرے شہری اپنے خرچے پراور اپنی مدد آپ کے تحت کیبل فالٹس دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ دن میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، حکومت کی خاموشی بتاتی ہے کہ وہ اس بجلی کے بحران کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ کے ای ایس سی کے ترجمان کاموقف ہے کہ سی بی اے یونین کی مداخلت کی وجہ سے مرمتی کاموں میں تاخیرہو رہی ہے، عدالتی حکم کے باوجود تنصیبات ،دفاتر اور عملے کو تحفظ فراہم نہیں کیاجارہاہے۔جبکہ سی بی اے لیبر یونین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے الزمات بے بنیاد ہیں۔ ساڑھے چار ہزار ملازمین کو سرپلس پول سے نکال کر کام پر واپس لیاجائے تو احتجاج ختم کردیں گے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت