20 جون 2011 - 19:30

بحرین کی امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت نے ڈاکٹروں کو وحشیانہ تشدد، ٹارچر، آزار و اذیت اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں گرفتار ڈاکٹروں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں سے وحشیانہ تشدد اور ٹارچر کے ذریعے اقبال جرم کرایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عدالت میں پیشی کے موقع پر ڈاکٹروں کو چلنے میں مشکل پیش آ رہی تھی جب کہ وہ تھکے ہوئے تھے اور ان کے چہرے پیلے پڑگئے تھے۔ 

آل خلیفہ حکومت نے جارح آل سعود کی مدد سے فروری 2011 کے وسط سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔

بحرینی ڈاکٹروں پر الزام ہے کہ انھوں نے حکومت مخالف مظاہرین کا علاج کیا اور انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔

ڈاکٹروں کے اہلخانہ کے انٹرویو کرنے پر ایسے شواہد ملے کہ ٹرائل کے دوران ڈاکٹروں کو تشدد کے ذریعے اقبال جرم پر مجبور کیا گیا۔

ایک ڈاکٹر کی بیوی نے بتایا کہ ان کے شوہر نے تین ہفتوں تک مسلسل کھڑا رہنے، ہتھکڑی پہنائے جانے اور نہ سونے دینے کی وجہ سے اقبال جرم کیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹروں کو عالمی قوانین کے مطابق حلف لینا پڑتا ہے کہ وہ دکھی انسانیت کو بہر صورت امداد پہنچائیں گے اور وہ مذہب، رنگ، نسل، زخمی ہونے کی وجوہات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تمام انسانوں کا کسی امتیاز کے بغیر علاج معالجے کی سہولت بہم پہنچائیں گے اور عالمی اندھیر نگری میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے بلندبانگ نعرے لگانے والی عالمی طاقتوں کی حمایت یافتہ مطلق العنان خلیفی حکمران بحرینی ڈاکٹروں پر "حلف کے عین مطابق عمل کرنے" کا الزام لگاتے ہیں اور اس کو جرم قراردیتے ہوئے ڈاکٹروں کو درندگی کا نشانہ بنا کر انہیں اس "جرم" کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتے ہیں لیکن نہ تو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو کوئی صدمہ پہنچتا ہے اور نہ ہی عالمی طاقتوں کی انسانی حقوق والے جھوٹے جذبات کو کوئی ٹھیس لگتی ہے۔ ڈاکٹر اس لئے مجرم ہیں کہ انھوں نے اپنے فرائض منصبی پر عمل کیا ہے۔

ڈاکٹروں کی حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کے معدوم اشارے ملتے ہیں لیکن ان کا اصل قصور بین الاقوامی میڈیا کو یہ بتانا تھا کہ کس طرح حکومت نے مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔

بحرین میں اس وقت 50 سے زائد ڈاکٹر اور نرسیں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔

بحرینی عوام بحرین میں جمہوریت اور آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 

بحرین کے ساحلوں پر پانچواں امریکی بحری بیڑا بھی تعینات ہے جس کو آل خلیفہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزی پر امریکہ کی مجرمانہ خاموشی کی اصلی وجہ سمجھا جارہا ہے۔

دوسری طرف سے عرب ریاستوں کے امریکہ نواز حکام بھی اس چھوٹے سے ملک پر قابض ہیں جن کی امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد سے وابستہ ہیں اور اس حقیقت کے متعدد ثبوت انٹرنیٹ کے اس دور میں بآسانی ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔ جو عرب ممالک بحرین سمیت دوسرے عبر ممالک میں اسلامی بیداری اور عوامی تحریکوں کا مقابلہ کررہے ہيں اور عرب ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور عرب و اسلامی دنیا پر صہیونی تسلط کو تحفظ فراہم کررہے ہیں ان میں میں آل سعود کی حکومت سر فہرست ہے۔

بشکریہ از۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت