اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "انسانی حقوق مرکز، بحرین" کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نبیل رجب نے العالم نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: گذشتہ چند روز کے دوران آل خلیفہ حکمرانوں کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی کے سامنے آنے والی رپورٹوں اور ویڈیوز و تصاویر کی تعداد گذشتہ 30 برسوں میں اس خاندان کے غیرانسانی اعمال سے سامنے آنے والی رپورٹوں، ویڈیوز، تصاویر اور دستاویزات سے کہیں زیادہ ہے۔انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت کی وحشیانہ پالیسیوں اور عوام کے خلاف اس کے غیر انسانی اقدامات کی وجہ سے عالمی سطح پر بحرین کی ساکھ بری طرح مجروح ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین کا نام اس وقت ان ممالک کی فہرست میں قرار دیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کے ملزم ٹہرے ہیں حتی کہ امریکہ ـ جو بحرینی حکمران خاندان کو اپنا حلیف سمجھتا ہے ـ میں بھی حکومت بحرین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی حکومتوں کی فہرست میں قرار دیا گیا ہے اور اس حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی کا مجرم سمجھا گیا ہے۔نبیل رجب نے کہا: یہ واقعہ غیرمعمولی ہے کیونکہ امریکہ اس سے قبل صرف اپنے دشمنوں کو اس حوالے سے بلیک لسٹ کیا جاتا رہا ہے۔انھوں نے بحرین میں آج کی ریلیوں اور مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حکمران خاندان کے لئے آج کی ریلیوں کا واضح پیغام یہ ہے کہ جبر و تشدد، قتل، گرفتاریوں، ظلم و ستم، ٹارچر اور عوام کو بیروزگار کرنے جیسے سرکاری اقدامات عوامی تحریک پر اثرانداز نہیں ہوسکے ہیں چنانچہ عوام بدستور پائیدار، مقتدر اور طاقتور ہیں اور اپنے حقوق کا بہرقیمت مطالبہ کررہے ہیں۔ نبیل رجب نے آل خلیفہ حکومت کی طرف سے مجوزہ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بحرین میں کسی نے بھی آل خلیفہ حکومت کی اس تجویز کو اہمیت نہیں دی ہے کیونکہ قتل و غارت، بے حرمتی اور ظلم و جبر کے بعد اب آل خلیفہ حکومت نے مکاری اور حیلہ گری پر مبنی پالیسی اپنا رکھی ہے اور مذاکرات کے بارے میں اس کا فیصلہ ہرگز سنجیدگی اور صداقت پر مبنی نہیں ہے۔انھوں نے کہا: یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہم حکومت کے ساتہ مذاکرات کریں جبکہ عوام جیلوں میں ہیں، مساجد شہید کی جارہی ہیں، سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کو بےروزگار کیا جارہا ہے؛ استانیوں کو پولیس اسٹتیشنوں میں بلایا جاتا ہے ان سے تفتیش کی جاتی ہے اور انہیں تشدد اور ٹارچر اور جنسی آزار و اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز