ابنا: فائزہ بیٹی کی پیدائش کیچھ ماہ بعد مرگی کے مرض می مبتلاہوگئیں۔ فائزہ کو مرگی کی وجہ سے مقامی اسپتال میں داخل ہو نا پڑا ۔ فائزہ کوپہلے سخت بخار اور سر میں شدید درد کی شکایت ہو ئی جس کے بعد سارے جسم میں جھٹکے لگنا شروع ہو گئے۔ جھٹکوں کے باعث ان کا جسم سن ہوجاتاتھا تشخیص ہو ئی تو پتا چلا کہ فائزہ مرگی جیسے مرض میں مبتلا ہو گئی ہے۔ مرگی کے دوران مریض کا جسم اکڑ جاتا ہے گردن پیچھے کی جانب کھینچ جاتی ہے اور مریض کا سر ایک جانب کو مڑجاتا ہے۔محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران تین ہزار سے زیادہ مریضوں کو رجسٹرڈ کیا گیا۔ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تیس سے چالیس فیصد زیادہ ہیں۔مرگی کسی چوٹ ، ٹیومر، زخم یا دماغ میں خون کی رگوں کے آپس میں الجھنے سے بھی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرگی کے مریضوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھا جائے اور انہیں علاج کی مناسب سہولیتں فراہم کی جائیں تو وہ بھی پر سکون زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز