اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ خاندان عالمی رائے عامہ میں اپنی بدنامی کو خوشنامی میں تبدیل کرنے کے لئے عوام کے خلاف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کررہا ہے اور اس نے اسی حوالے سے عالمی کار ریلی "فارمولا - 1" کی میزبانی حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق وہ یہ میزبانی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور اس کی لاکھوں کوششوں کا الٹا نتیجہ نکلا اور جو لوگ آل خلیفہ کے جرائم سے بے خبر تھی وہ بھی کار ریلی کے پروگرام کی منسوخی کی بنا پر اس حقیقت سے آگاہ ہو گئے ہیں اور یوں مجرم، درندہ اور خونخوار آل خلیفہ خاندان دنیا میں مزید بدنام ہوگیا اور آل خلیفہ کے ولیعہد کی واشنگٹن میں آؤ بھگت سے بھی اس خاندان کی بدنامی کم نہیں ہوئی بلکہ ولیعہد کی واشنگٹن یاترا انسانیت کش امریکہ کے بھیانک چہرے پر بدنامی کا ایک نیا دھبہ ثابت ہوئی۔دریں اثناء بحرینی سیاستدان "الحسابی جمعہ" نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ خاندان اپنے چہرے کی اصلاح کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ بحرین میں بین الاقوامی کار ریلی کا پروگرام منسوخ ہوگیا ہے تاہم آل خلیفہ خاندان مشکوک قرار دادیں اور خفیہ اجلاس منعقد کرکے فارمولا - 1 کار ریلی کا پروگرام بحال کرنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے وہ متعلقہ اداروں کو کروڑوں ڈالر کی رشوت ادا کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ الحسابی جمعہ نے کہا کہ عوام کے ساتھ آل خلیفہ حکمرانون کے جابرانہ برتاؤ اور احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اس کی مکارانہ چالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خاندان کسی طور پر بھی نہ تو حکومت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور نہ ہی دنیا میں بحرینی قوم کی نمائندگی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ خاندان کی روش جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز یا اپرتھائڈ پر مبنی سفید فاموں کی حکومت سے ملتی جلتی ہے چنانچہ عالمی برادری، بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس خاندان سے ویسا ہی برتاؤ روا رکھنا چاہئے جو انھوں نے جنوبی افریقہ کی حکومت کے ساتھ روا رکھا تھا۔ انھوں نے عالمی اداروں اور اقوام عالمی سے اپیل کی ہے کہ نسلی اور فرقہ وارانہ امتیاز پر مبنی خلیفی اقدامات کے پیش نظر بحرین میں کسی بھی عالمی سطح کی تقریب کے انعقاد کی بھرپور مخالفت کریں۔ الحسابی جمعہ نے کہا: آل خلیفہ خاندان کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور آل سعود کی حکومت بھی اس کی مدد کررہی ہے جبکہ عوام نہتے ہیں اور مہذب اور پرامن طریقون سے اپنے مطالبات کے لئے کوشش کررہے ہیں جبکہ حکمران خاندان آل سعود کی مدد سے ان کے پرامن مظاہروں کا جواب گولی سے دے رہا ہے لہذا عالمی برادری اور دنیا کے حریت پسندوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ بحرین کے مظلوم عوام کی مدد کو آئیں اور آل خلیفہ کے غیرانسانی اقدامات کو دنیا والوں تک پہنچا کر اس خاندان کو شرمندہ و رسوا کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔
/110