9 جون 2011 - 19:30

وقت آ گیا ہے کہ اس فارمولا پر عمل کیا جائے کہ امریکہ کی دوستی اچھی اور نہ دشمنی، پاکستان کی بقا اور سالمیت کا تقاضا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے ہیں تو واضح الفاظ میں قومی پالیسی طے کرنا ہو گی کہ ایٹمی پروگرام پر کوئی سمجھوتہ قبول ہو گا اور نہ ہی اس کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے والی قوتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار ہونگے۔

ابنا: ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا پاکستانی ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے بیان سو فیصد صداقت پر مبنی ہے۔ اس حوالے سے اب پاکستان کو ہر لمحہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ ایبٹ آباد آپریشن اور پی این ایس مہران کے واقعات کے بعد یقیناً پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور چوکس رہنے کیلئے جنگی بنیادوں پر انتہائی سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل سے پاکستان کو کبھی خیر کی توقع نہیں ہونی چاہئے یہ حقیقت ہے کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرے گا اس سے عسکری ادارے بھی بخوبی آگاہ ہیں لیکن حکمران اور سیاستدان اقتدار میں رہنے اور اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے ملک کے دفاع سے غافل ہو کر اپنے سیاسی کھیل میں سیاسی گروہ بندیوں اور دھڑوں کو تشکیل دینے میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ امریکہ نواز پالیسیوں کو اپنا کر ملک کے تمام اداروں کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا، پاکستان ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے امریکہ جان چکا ہے پارلیمنٹ کی متفقہ قراردادوں کو عوامی نمائندوں نے خود مذاق بنا رکھا ہے اس پر وہ کس طرح عمل درآمد کرائیں گے امریکی کانگریس کے ارکان کی اکثریت پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی قراردادوں کو محض رسمی کاروائی کا نام دیتی ہے۔ایٹمی پروگرام کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کا جو حشر ہوا ایٹم بم بنانے والے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں جلاوطن کر دیا گیا، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا، انہیں سیاسی منظرنامے سے ہی ہٹا دیا گیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ایٹمی پروگرام پر کام جاری رکھا، ان کا جو حشر ہوا، یہ تمام حقائق پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہیں، وقت آ گیا ہے کہ اس فارمولا پر عمل کیا جائے کہ امریکہ کی دوستی اچھی اور نہ دشمنی، پاکستان کی بقا اور سالمیت کا تقاضا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے ہیں تو واضح الفاظ میں قومی پالیسی طے کرنا ہو گی کہ ایٹمی پروگرام پر کوئی سمجھوتہ قبول ہو گا اور نہ ہی اس کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے والی قوتوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار ہونگے۔ سیاسی اور عسکری اداروں کو امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے خوفناک منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے متحد ہونا ہو گا۔ قومی لیڈر پیدا کرنا ہو گا جب تک خوددار اور مضبوط قومی لیڈر قوم کی قیادت نہیں کرے گا، ملک کمزور پچ پر ہی رہے گا اس وقت مضبوط کپتان کی ضرورت ہے، حادثاتی لیڈروں سے چھٹکارا حاصل کیا جانا چاہئے ورنہ پاکستان مزید بحرانوں کی دلدل کا شکار ہوتا چلا جائے گا۔ عوام اور میڈیا کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے، حقیقی قیادت،حقیقی نمائندے وقت کی ضرورت ہیں۔ عوامی نمائندوں کی اکثریت لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے ”سیاست برائے فروغ کاروبار“ کے اصول پر عمل پیرا ہے، انکی موجودگی میں امریکی تسلط کا خاتمہ ناممکن ہے، دراصل یہ لوگ ہی سکیورٹی رسک ہیں ٹیکس نہ دینا اور پاکستان میں امریکی ایجنڈا کی تکمیل کروانا ان کا ماٹو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت