ابنا: کوئٹہ ائر پورٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی امریکہ سمیت تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تاہم ہم نے امریکہ پر واضح کردیا کہ ڈرون حملوں کے خلاف ہماری پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد منظور کی ہے کہ انہیں بند کیا جائے اور اس کی ٹیکنالوجی ہمیں فراہم کی جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اورہماری کوشش ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو کوئی غیر ملکی دہشت گرد استعمال نہ کرے کیوں کہ نہ صرف غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے، گوادر پورٹ کے حولاے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کو چین کے حوالے کرنے سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہوا، اور اس حوالے سے جو کچھ ہوگا اسے صوبائی حکومت کی مشاورت سے طے کیا جائے گا، لاپتہ افراد کی حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے دو کمیشن کام کررہے ہیں اور لاپتہ افراد کی تعداد جو پہلے ہزاروں میں بتائی جارہی ہے وہ صرف اڑتیس رہ گئی ہے، بلوچستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے پر کسی نے کوئی کوتاہی کی تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ترقیاتی عمل کی وہ خود نگرانی کریں گے اور اس ھوالے سے ہر ماہ کوئٹہ کا وزٹ کریں گے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں احساس محرومی کو ختم کرنے کے لئے یہاں ملازمتیں فراہم اور دیگر ترقیاتی کام کئے جارہے ہیں اور صوبے میں وسائل کی فراہمی اور فنڈز کی کمی میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی جبکہ بلوچستان میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ کو کم کرنے کے لئے ہدایات دے دی ہیں، امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم گیلانی کا کہنا تھا کہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کی زمہ داری ریاست کی ہے اور اس حوالے سے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز