ابنا: مالی سال 11-2010ء کے لئے حکومت کا اقتصادی سروے جیونیوز کو مل گیا ہے ، اس کے مطابق رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 2.4فیصد رہی ،ہدف 4.5تھا، زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف3.8 فی صد تھا،شرح نمو 1.2 فی صد رہی ، رواں مالی سال خدمات شعبے کی ترقی 4.7فیصد رہی، ہدف 4.1فیصد تھا، رواں مالی سال صنعتی شعبہ کی ترقی کی شرح منفی 0.1فی صد رہی، بجلی گیس،پانی کی فراہمی کے شعبوں کی گروتھ منفی 21 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کی ترقی 1 فیصد جبکہ چھوٹی صنعتوں کی افزائش7.5فیصد رہی، سروے کے مطابق جولائی2010ء سے اپریل 2011ء تک مہنگائی شرح 14فیصد رہی اور عام اشیاء خوردونوش 18.42فیصد مہنگی ھوئیں،سروے میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے بحران اورغیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے صنعتی ترقی متاثر کی، بچتوں کی شرح نمو 12.9 فی صد رہی ، اس کاہدف 14.5 تھی،سرمایہ کاری میں شرح نمو 13.4 فی صدرہی اس کا ہدف 17.9 فی صد تھا، رواں مالی سال جولائی سے مارچ تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 29فیصد کمی رہی۔ اکنامک سروے کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری 33فیصد کمی ہوئی، اقتصادی ترقی میں سست روی کے باعث ٹیکس وصولی کم رہیتاہم یہ زشتہ سال کی نسبت 6ء 12 فیصد زائد ہے ، مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 11 کھرب 56 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہوا، ٹیکس وصولی کا مجموعی ہدف 15 کھرب 88 ارب روپے ہے، مالی خسارہ 4.7فیصد تک رکھنے کا ہدف تھا یہ 5.5فیصدہونے کا تخمینہ ہے، دس ماہ میں حکومتی شعبہ نے 2ء 342 ارب روپے قرض لیا ، بجٹ سپورٹ کے 2ء 472 ارب روپے قرض لیا گیا،اس میں اسٹیٹ بنک کے 3ء 196ارب شامل ہیں، سروے کے مطابق رواں مالی سال ختم ہونے تک مہنگائی شرح 15 فیصد ہونے کا امکان ہے، تجارتی خسارہ میں 2ء 2 فیصد کمی ہوئی، اس کا 10 ماہ میں حجم 8 ارب ڈالر رہا، اسٹاک مارکیٹ کراچی میں 638 کمپنیاں لسٹڈ ہوئیں، مجموعی سرمایہ 920 ارب روپے رہا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز