ابنا: مغربی ممالک کی طرف سے شمالی اتحاد کی مدد نے طالبان کوشکست نہیں ہونے دی۔ امریکا اور اسکے اتحادی افغانستان میں عسکریت پسندوں سے کبھی جنگ نہیں جیت سکتے۔ ہالبروک کے الفاظ کہ’ ہم غلط ملک میں غلط دشمن پر حملہ کر رہے ہیں‘ کے الفاظ سچ ثابت ہوئے۔ امریکا اور مغربی ممالک کے معاشی اور سیاسی حقائق افغان جنگ سے تین سال میں فوجیں نکالنے کا وقت دیں گے۔طالبا ن کے سماجی ایجنڈے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن وہ عالمی سطح کے جہادی نہیں۔ حقیقی دشمن القاعدہ ہے۔اوباما نے آخر کار تسلیم کر لیا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں۔ امریکی جریدے کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی بہت سی جنگوں کا خاتمہ مذاکرات سے ہی ہوا ہے اور صدر اوباما نے آخر کار یہ اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں 10 سال سے جاری جنگ ہر صورت ختم ہونی چاہیے اور اس کا حل بات چیت میں ہی ہے۔ 1968 میں بھی امریکی فوج نے بھاری قیمت چکانے کے بعد ویت نام جنگ کا اختتام بات چیت سے کیا تھا۔افغانستان میں امریکی فوجیوں نے اپنے طور پر بہتر کام کیا۔لیکن ان کی بہت سی حکمت عملی اور مقامی فتوحات کے باوجودوہ عسکریت پسندوں کی اس فوج کو اس لیے سکشت نہیں دے پائے کہ ان کا مقصد اپنے وطن سے غیر ملکی فوجوں کو نکالنا ہے۔ایسی صورت حال میں ان کو شکست نہیں دی جا سکتی ۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سیاسی سمجھوتے پر اس وقت تک بالادستی کی جدوجہد قابل عمل نہیں ہوسکتی جب تک قدامت پسند مذہبی قوم پرست طالبان کی طرف سے نمائندگی نہ ہو۔ حقیقت یہ کہ مغربی ممالک نے شمالی افغانستان کے جنگی سرداروں کو اقتدار سے طالبان کو نکالنے میں مدد کی جس کی وجہ سے طالبان کو شکست نہیں ہوئی۔ ان کو محض مشرقی یا جنوبی حصے کی طرف دھکیل دیا گیایا ان کو زیر زمین ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اسامہ بن لادن کی موت کے ساتھ ہی اوباما انتظامیہ نے آخر کارتسلیم کیا کہ افغانسان کا کوئی فوجی حل نہیں۔ اس کے لیے نیا سیاسی معاہد ہ یا سمجھوتہ کیا جائے گا اوباما نے ہالبروک کے الفاظ کو تسلیم کر لیا کہ ہم غلط ملک میں غلط دشمن پر حملہ کر رہے ہیں۔ حقیقی دشمن القاعدہ ہے جو پاکستان ، یمن ، صومالیہ ، مشرق وسطی اور یہاں تک کہ مغرب کے کئی شہروں میں موجودہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں طالبان کے سماجی ایجنڈے سے اتفاق نہ ہو اور ہم اسے پسند نہ کریں لیکن وہ عالمی سطح کے جہادیوں میں نہیں ہیں۔ ان کا مغرب کے ساتھ صرف اس بات پرجھگڑا ہے کہ ان کے وطن میں ہماری افواج کی موجودگی ہے۔ کوئی بھی افغانستان سے غیر مشروط انخلاء کا حامی نہیں،ایک سنجیدہ امن معاہد ہ مشکل کام ہے۔کسی کے لیے یہ فیصلہ اچھا ہو یا برا لیکن سچ یہ کہ مغربی ممالک کی سیاسی اور معاشی حقائق صرف افغانستان کے میدان جنگ سے اپنی افواج کے انخلاء کے لیے تین برس کی اجازت دیں گے۔افغانستان کے نئے سیاسی معاہدے کی تکمیل کے لییتیز رفتاری سے کوششیں شروع کر دیں اور اس میں طالبان کوزیادہ اہمیت دی جائے۔نیوز ویک نے اس کیلئے ڈبل ڈیکر بس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بس کے اوپر والے حصہ میں طالبان جبکہ نیچے والے حصے میں 1979 کے سوویت یونین کے حملے سے پہلے سول تنازعے کی بڑی جماعتیں ہوں ۔ پاکستان ،بھارت،چین،روس،وسطی ایشیائی ممالک،ترکی،سعودی عرب اور ایران گریٹ گیم کیحصہ دارہیں ،اس گیم کے اگلے راوٴنڈ سے بچنے کا واحد راستہ افغان فریقوں سے بات چیت ہے۔ورنہ گریٹ گیم کے کسی ملک کو افغانستا ن سے کچھ نہیں ملے گا اور افغانستان انارکی،دہشت گردی،منشیات اور پناہ گزینوں کی آماج گاہ ہو گا۔ اس سیاسی سمجھوتے کے لیے امریکی سفارت کاری کی ایک ٹیم پہلے ہی کام کر رہی ہے لیکن اس کی کامیابی کے لیے اوباما اور ہلیری کلنٹن کو خود شامل ہونا ہوگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز