ابنا: 18 اپریل 2008 کو امریکی سفیر این ڈبلیو پیڑسن نے واشنگٹن کو مراسلہ لکھا۔ یہ مراسلہ اس وقت بھیجا گیا جب حکومتی حلقوں کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو رہا کرنے سے متعلق بیانات پر امریکا کو شدید تشویش لاحق ہوگئی تھی۔ اس سلسلے میں امریکی سفیر نے اسٹرے ٹیجک پلان ڈویژن کے سربراہ خالد قِدوائی ، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اْس وقت کے صدر پرویز مشرف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ 16 اپریل کو آصف زرداری نے امریکی سفیر سے ملاقات میں کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو رہا کرنے کے حکومتی فیصلے سے متعلق بعض حکام کے بیانات اور میڈیا میں آنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ آصف علی زرداری نے امریکی سفیر کو بتایا کہ انھوں نے ڈاکٹر خان کی رہائی سے متعلق بیانات کا سلسلہ بند کرانے کیلئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہدایت کردی ہے۔ ساتھ ہی آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کا بس چلتا تو وہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ڈاکٹر خان تک رسائی دیتے۔
.............
/169