19 مئی 2011 - 19:30

کیا جنرل صاحب سمجھتے ہیں کہ صرف وردی والے اچھے اور برے کی تمیز اور سچ اور جھوٹ کی تشخیص کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیا عوام بالکل جاہل ہیں اور وہ جو کہیں لوگ آنکھیں بند کرکے قبول کرتے ہیں؟

ابنا: رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نےامریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرے۔کیونکہ ان حملوں سے پاکستانی عوام میں اشتعال انگیزی پیدا ہو رہی ہے جبکہ ڈرون حملوں سے فوائد کم اور نقصانات زیاد ہ ہو رہے ہیں، آئی ایس آئی کا کسی بھی دہشت گرد گروپ سے کوئی رابطہ نہیں۔پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ممبئی حملوں میں ملوث نہیں، حقانی نیٹ ورک سے تعلقات کے بارے میں امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارتی ٹی وی سی این این / آئی بی این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ ترجمان نے ایک بار پھر ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ آئی ایس آئی ممبئی حملوں میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی ایک ذمہ دار انٹیلی جنس ادارہ ہے اور اس کے افسران بھی ذمہ دار ہیں اس لئے آئی ایس آئی کو ممبئی حملوں کے واقعے میں ملوث کرنے کا الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک فوج اور آئی ایس آئی کے سابق افسران یا اہلکاروں کا تعلق ہے تو ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ خود مختار ہوتے ہیں ان کا فوج یا آئی ایس آئی سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک سے تعلقات کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں جو سراسر بے بنیاد ہیں۔

بشکریہ از ہزارہ ٹرائب . کام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاش جناب اطہر عباس صاحب کی بات درست ہوتی!کاش آئی ایس آئی کا حقانی نیٹ ورک سے کوئی رابطہ نہ ہوتالیکن یہ صرف ایک آرزو ہے اور امریکہ ہی نے یہ الزام نہیں لگایا ہے کہ آئی ایس آئی اور مرکزی حکومت یا اسٹبلشمنٹ کے حقانی نیٹ ورک سے تعلقات ہیں۔ہم امریکہ کی حامی نہیں ہیں اور امریکہ کی بات کو درست قرار دینے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ امریکہ کو پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں جیسا کہ وہ پورے عالم اسلام کا بھی دشمن ہے اور اسرائیل کا حلقہ بگوش ہے۔ بات یہ ہے کہ اگر حکومت اور فوج اور آئی ایس آئی کی مرضی نہیں ہے تو پھر طالبان یا وہی جلال الدین حقانی نیٹ ورک کیونکر پاراچنار کا محاصرہ کرسکا ہے؟ کیا شلوزان اور خیوص پر کئی مہینے قبل حقانی نیٹ ورک نے اپنی مرضی سے حملہ کیا تھا؟ جب حقانی نیٹ ورک کو مقامی محب وطن پاکستانیوں سے منہ کی کھانی پڑی تو وہ ہیلی کاپٹر کیا ریٹائرڈ فوجی چلارہے تھے جنہوں نے اپنے ہی عوام پر حملے کئے؟گذشتہ کئی روز سے شلوزان پر حقانی نیٹ ورک نے ہزاروں گولی فائر کئے ہیں اور وہاں فوج بھی ہے اور پیراملٹری فورسز بھی ہیں جو خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں کیا وہ ریٹائرڈ ہیں اور اپنی مرضی کے مالک ہیں جو اس وقت اپنے ہی شہریوں کو بیرون ملکی دشمنوں سے بچانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کررہیں؟بات صرف یہ نہیں ہے کہ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ آئی ایس آئی کے تعلقات کا الزام لگایا ہے بات در حقیقت یہ ہے کہ پاراچنار کے آٹھ لاکھ سے زائد عوام ـ جن میں پانچ لاکھ شیعیان اہل بیت (ع) ہیں اور باقی اہل سنت ہیں ـ حقانی نیٹ ورک کے گھیرے میں ہیں اور یہ واقعہ چار سال سے جاری ہے اور جن راستون سے شیعیان اہل بیت (ع) کا آنا جانا منع ہے آئی ایس آئی والے اور فوج و ایف سی والے ان ہی راستوں سے آمد و رفت کررہے ہیں اور ان کے تعلقات بہت قریبی ہیں یہاں تک کہ آئی ایس والے اور ایف سی والے جاکر ہمارے جگرگوشوں کی مثلہ شدہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہونی والی لاشیں بڑی محبت سے ان سے اپنی تحویل میں لیتے ہیں اور ہمارے حوالے کرتے ہیں۔ اگر آئی ایس آئی اور حقانی کے در میان تعلقات نہیں ہیں تو گرینڈ جرگہ اسلام آباد میں کیا ریٹائرڈ آفیسر کروا رہے ہیں؟ کیا حقانی گروپ کے سرغنوں کی پذیرائی ریٹائرڈ فوجی کررہے ہیں؟ پاراچنار کے عمائدین سے حقانی والوں کی ملاقاتیں کیا ریٹائرڈ جرنیل کروا رہے ہیں؟ کیا ریٹائرڈ فوجیوں کو ملک کے تمام امور میں دخل دینے کی بھی آزادی ہے؟ اطہر عباس صاحب کس کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ صرف وردی والوں میں اچھے اور برے کی تمیز کی صلاحیت ہوتی ہے اور عوام بالکل جاہل ہیں اور وہ جو کہیں لوگ آنکھیں بند کرکے قبول کرتے ہیں؟ صرف ایک بات اگر ہوجائے تو ہم مان لیں گے کہ آئی ایس آئی اور فوج کے حقانی گروپ کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں اور وہ یہ کہ:* کرم ایجنسی سے حقانی نیٹ ورک کو کرم ایجنسی سے نکال باہر کریں* پاراچنار کی چار سالہ ناکہ بندی ختم کی جائے * شلوزان پر حقانی کے حملی بند کرائے جائیں* پاکستان کو افغانستان میں امریکہ کا مقابلہ کرنا ہے تو طالبان (خواہ گڈ طالبان خواہ بیڈ طالبان) سے ہتھیار چھیں لئے جائیں، قبائل کے روایتی ادارے بحال کئے جائیں اور انہیں طالبان کے تسلط سے چھٹکارا دلایا جائے اور حکومت اپنی سرحدوں نیز بقول ان کے نیشنل ایسٹس کے تحفظ کے لئے قبائل کو من حیث القبائل اعتماد میں لے. جب قبائل متحد ہونگے اور لڑائی جھگڑوں کا امکان نہ ہوگا تو پاکستان کی سرحدیں بھی محفوظ ہوں گی اور کوئی بھی طاقت پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔واضح رہے کہ اگر قبائل کو یہ بات منطق سے سمجھائی جائے کہ افغانستان میں قابض فوجوں سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے تو اس کے بہت بہتر نتائج ہوسکتے ہیں جبکہ قبائل کو انسان نہ سمجھ کر اور انہیں اندھیرے میں رکھ کر اور آپس میں لڑا کر پاکستان کے تحفظ کے لئے ہر کوشش ناکام ہوگی کیونکہ اس عمل سے پاکستانیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ قومی سلامتی کے بنیادی فلسفے کے ہی منافی ہے۔یادرہے کہ اس وقت حقانی گروپ سے کرم ایجنسی کے عوام کو سخت تکلیف ہے اور امریکہ بھی اس گروپ سے گلہ مند ہے؛ آئی ایس والے یقیناَ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے!!!!؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

متعلقہ لنک:

-  آئی ایس آئی، حقانی نیٹ ورک اور پاراچنار

- پاراچنار: شلوزان و خیوص پر دہشت گردوں کی زبردست بمباری، حکومت تماشا دیکھ رہی ہے

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت