18 مئی 2011 - 19:30

کوششوں ،یورپی یونین اور امریکی مداخلت کے بعد ایک بار پھر خلیج تعاون کونسل کی جانب سے یمنی بحران کے حل کے کئے پیش کئے جانے والے مسودے پر یمن کے ڈکٹیٹر راضی ہوگئے.

ابنا: لیکن ابھی دستخط نہیں ہوا ممکن ہے  آج رات تکہک انجام پائے اس نئے مسودے کے مطابق علی عبداللہ صالح کو پارلمنٹ کے سامنے فورا استعفیٰ دینا ہوگا جس کے بدلے میں انہیں بعد کی عدالتی کاروائی یا کرپشن کیسز میں ایک سیف پیکیج ملے گا دوسری جانب سڑکوں پر پچھلے سو دن سے بیٹھے ہوئی عوام اس راہ پر راضی نہیں ہے انکا کہنا ہے کہ یمنی صدر ایک مجرم ہیں اور اسے عدالت کا سامنا کرنا ہوگا ۔عرب دنیا کے ڈکٹیٹروں میں سے تیونس کے بن علی کو توسعودی عربیہ نے بچالیا حسنی مبارک عدالتی دام میں پھنسا ہوا ہے بحرینی شاہ کے خلاف عالمی عدالت برائے انسانی جرائم میں کیس دائر ہے کیا ایسے میں علی عبد اللہ صالح کے تمام جرائم معاف کیے جاینگے کیا خلیج تعاون کونسل کی آڑ میں سعودی عربیہ یمنی ڈکٹیٹر کو بچا سکے گا ؟یہ آنے ولا وقت بتائے گا لیکن اہم یہاں یہ ہے کہ اب یمنی انقلاب کس سمت بیٹھے گا خلیج تعاون کونسل اور امریکی مرضی کے مطابق یا پھر عوامی خواہشات کے مطابق اس کے لئے ہمیں مزید انتظار کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت