14 مئی 2011 - 19:30

پندرہ مئی انیس سو اڑتالیس اقوام عالم کا ایک تلخ ترین واقعہ یعنی فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور صیہونی حکومت کی جانب سے ان کی سرزمین پر قبضے کا دن ہے۔

ابنا: ترسٹھ سال قبل آج ہی کے دن فلسطین کی سرزمین پر برطانیہ کی تقریبا تیس سالہ حاکمیت کے بعد استعمار اور صیہونزم کے گٹھ جوڑ سے فلسطینی سرزمین پر قبضہ کر کے صیہونی حکومت کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح دنیا میں ایک ناجائز حکومت وجود میں آئی کہ جس کا نتیجہ دنیا خاص طور پر مشرق وسطی کے علاقے میں بدامنی اور عدم استحکام کے سوا کچھ اور نہیں نکلا ہے۔ ناجائز صیہونی حکومت کے قیام سے مظلوم فلسطینی عوام کو آوارہ وطن اور بےگھر کر دیا گیا اور ان پر مصائب کے پہاڑ توڑ دیے گئے۔ انسانی حقوق کی دعویدار مغربی حکومتوں کی جانب سے صیہونی حکومت کی بھرپور حمایت سے قدس کی غاصب حکومت کے قیام کا راستہ ہموار ہوا اس وقت فلسطین کی سرزمین برطانیہ کے زیرکنٹرول تھی اور برطانوی حکام نے فلسطین میں صیہونیوں کی سرگرمیوں کے لیے ضروری حالات فراہم کیے۔ انیس سو سترہ میں برطانوی حکومت نے بالفور اعلامیہ جاری کر کے باضابطہ طور پر فلسطینی سرزمین پر صیہونی حکومت کی تشکیل کے نظریے کی حمایت کی۔ مغربی حکومتیں مشرق وسطی میں اپنے اثرورسوخ کو باقی رکھنے اور اس علاقے میں اپنے استعماری مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مشرق وسطی کے حساس علاقے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد صیہونی حکومت کے قیام کی حمایت کر رہی تھیں۔ صیہونی حکومت کے قیام کے بعد مغربی حکومتوں نے علاقے میں اسے مضبوط بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کر لی۔ اس عرصے کے دوران صیہونی حکومت نے امریکہ اور برطانیہ کی حمایت سے عملا اقوام متحدہ کی دسیوں قراردادوں کو نظرانداز کیا ہے کہ جن میں ضمنی طور پر اس حکومت کے قابض ہونے کا اعتراف کیا گيا ہے۔ صیہونی حکومت نے فلسطینی سرزمین پر اپنے قبضے کو مضبوط بنانے کے لیے تشدد قتل و غارت گری اور خوف و وحشت کی پالیسی کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست قرار دیا ہے۔ صیہونی حکومت کے ان تمام تر غیرانسانی اقدامات اور ہتھکنڈوں کے باوجود فلسطینی عوام کی انتفاضہ تحریک نے صیہونی حکومت کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ مشرق وسطی میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پیش آنے والے حالات و واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ناجائز حکومت کو علاقے پر مسلط کرنے کے لیے صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے ہتھکنڈے ناکام رہے ہیں۔ فلسطینی سرزمین پر صیہونی قبضے کو ترسٹھ سال پورے ہو گئے ہیں اور اس وقت عالمی رائے عامہ فلسطینی عوام کے مصائب و مشکلات کے خاتمے اور صیہونی حکومت کے خلاف سنجیدہ بین الاقوامی اقدام کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169