14 مئی 2011 - 19:30

برطانوی روزنامہ نگار رابرٹ فسک نی انڈیپینڈنٹ میں ایک کالم کے ضمن میں مشرق وسطی کے حوادث کے حوالے سے مغربی ممالک کی دہری پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے بحرین کی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ "مغربی ممالک بحرینی عوام کے خلاف کی حکمران آل خلیفہ خاندان کے اقدامات کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟"۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رابرٹ فسک نے روزنامہ انڈیپنڈنٹ میں ایک کالم کے ضمن میں برطانوی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بحرینی عوام کے خلاف آل خلیفہ خاندان کے مظالم پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے کیونکہ بحرین کا حکمران خاندان خلیج فارس کی ریاستوں میں برطانیہ کا سب سے قریبی حلیف ہے اور ہزاروں برطانوی بحرین میں رہتے ہیں اور کاروبار میں مصروف ہیں. انھوں نے بحرین کی صورت حال پر امریکی انتظامیہ اور اس کے صدر بارک اوباما کی خاموشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بحرین میں پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے اور یہی امریکی خاموشی کا سبب ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہلیری کلنٹن شام کے صدر بشار اسد کی تو شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہیں لیکن آل خلیفہ کے بارے میں ایک لفظ تک بولنا گوارا نہیں کرتیں۔ فسک حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خاموشی کیوں؟ کیا ہم مغربی ممالک خلیج فارس کی ریاستوں کے حکمرانوں کے مرہون منت ہیں؟ یہ عرب بڑے سمجھدار ہیں اور اگر خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ ان پر تنقید کی جائے تو وہ مسائل کا ادراک کرسکیں گے۔ البتہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عربوں سے رابرٹ فسک کی مراد عرب قومیں تھیں یا پھر عرب حکمران؟انھوں نے امریکی سفارتکار "کرسٹوفر ہل" کے حالیہ کالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی اس بات کی تصدیق کی کہ "عوام کو اذیت و آزار پہنچانے کے سلسلے میں آمروں کی مطلق آزادی ناقابل قبول ہے" اور کہا: یہ بات بالکل درست ہے بشرطیکہ آپ (امریکی اور برطانوی ہوکر) بحرین میں نہ رہتے ہوں اور آپ کے مفادات آل خلیفہ خاندان سے وابستہ نہ ہوں۔ انھوں نے مزید لکھا ہے: بحرین ایک چھوٹا شیعہ اکثریتی ملک ہے جس پر ایک خاندان کی حکمرانی ہے اور اس خاندان نے بحرین میں جمہوریت کے خواہاں مظاہرین پر تشدد کیا، لوگوں کو ٹارچر کیا؛ حتی کہ ان ڈاکٹروں کو بھی گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جنہوں نے زخمی مظاہرین کا علاج کیا تھا۔ فسک نے سوال اٹھایا ہے: ان غیر انسانی اقدامات کو مغرب کا جواب کیا تھا؟ خاموشی، وہ خاموشی جو امریکی ذرائع ابلاغ پر چھائی ہوئی ہے اور یورپی بالخصوص برطانوی ذرائع میں مشاہدہ کی جارہی ہے. ایک طویل المدت خاموشی جس نے عرب ذرائع ابلاغ پر ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔  انھوں نے قطر کے نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیلی ویژن مشرق وسطی کے تمام واقعات و حوادث کو مکمل کوریج دیتا ہے لیکن بحرین کے بارے میں اس نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت