ابنا: فارس نیوز کےمطابق سعودی عرب کے تقریبا ڈھائي سو مصنفین اور دانشوروں نے ایک بیان جاری کرکے مصنفین اور دانشوروں کے خلاف سعودی انٹلجنس کے اشتعال انگيز اقدامات پرتشویش کا اظہار کیا ہے اور سعودی کال کوٹھریوں میں قید افراد کی رہائي کا مطالبہ کیا ہے۔ یادرہے سعودی عرب کی جیلوں میں ہزاروں افراد قید ہیں جنہیں بغیر مقدمے کے جیلوں میں رکھا گيا ہے۔ اس بیان میں آیا ہےکہ سعودی عرب میں ان افراد کو صرف اپنا عقیدہ اور نظریہ بیان کرنے کے جرم میں قید کیا گيا ہے بنابریں ان کی صورتحال کا جلد از جلدجائزہ لیا جانا چاہیے۔ سعودی حکومت نے ملک میں ہرطرح کے جلسے جلوسوں پرپابندی لگادی ہے تاہم حالیہ مہینوں میں سعودی باشندوں نے بارہا مظاہرے کرکے شہری حقوق اور آزادی کے فقدان کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ بغیر کسی الزام کے شہریوں کوگرفتار کرنا، شیعہ مسلمانوں کے خلاف شدید تعصب اور امتیازی سلوک ، بحرین کے امورمیں سعودی عرب کی مداخلت کے خلاف سعودی عرب کےشہریوں نے بارہا مظاہرے کئےہیں۔ سعودی عرب میں ہزاروں افراد نے شہر قطیف میں ملت بحرین کی حمایت میں مظاہرے کئےہیں۔ /169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز
بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت
پلیز
