ابنا: آئی ایس آئی کی معلومات سے ہی سی آئی اے اسامہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی، اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی یقیناانٹیلی جنس کی ناکامی ہے، لیکن یہ ناکامی دنیا بھر کی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ایبٹ آباد کے واقعے پر قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے اسامہ اور القاعدہ کے حوالے سے کئی سوال بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق کو زیادہ دیر نہیں چھپایا جاسکتا اور انہیں کہانیوں سے الگ کرنے کی ضرورت ہے،صدر اور آرمی چیف سے ایبٹ آباد کے واقعے پر مشاورت کی ہے،ایبٹ آباد تربیتی ادارے کامقام ہے جہاں زیادہ سکیورٹی کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے سوات اور وزیرستان میں کامیاب آپریشن کئے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے اربوں کا نقصان اٹھایا۔انہوں نے سوال کیا القاعدہ کے قیام کا ذمہ دار کون ہے،اسامہ کو دیومالائی شخصیت بنانے کا ذمہ دار کون ہے۔یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسامہ کو خطے میں کون لایا،پاکستان القاعدہ کی جائے پیدائش نہیں ہے، 30سال پہلے پاکستان افغانستان کی صورتحال کاحصہ بنا،یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ القاعدہ کی مدد دنیا کے کن ممالک نے کی۔اسامہ بن لادن دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد تھا، ہم نے اسامہ کو پاکستان یا افغانستان آنے کی دعوت نہیں دی۔وزیراعظم نے کہا کہ اسامہ سیکڑوں پاکستانیوں کی موت کا ذمہ دار ہے ، اس کی موت سے انصاف ہوگیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اولین ترجیح ہے۔اسامہ کے بعدبھی القاعدہ ختم نہیں ہوئی،اس کی باقیات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان دہشت گردی کیلئے اپنی زمین استعمال نہیں ہونے دیگا۔ایبٹ آباد کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، لیفٹیننٹ جنرل جاویداقبال تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کرینگے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریہ بھی ہے، پاکستانی قوم چیلنجز کا مقابلہ کرنا جانتی ہے۔ عوام اور ادارے ملک کی اصل طاقت ہیں۔پاکستان ایک باوقار قوم ہے اور قومی وقار کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں،ہماری خارجہ پالیسی قومی امنگوں کی ترجمان ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری ہے اور ہم اسے لڑرہے ہیں،سیاسی قیادت ملک کے تمام اداروں کی پشتی بان ہے،پاک فوج اورآئی ایس آئی کی ہائی کمان کوحکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے،تورابورابمباری کے بعد سکیورٹی فورسزنے القاعدہ کے248افرادپکڑے،نائن الیون کے بعدخالدشیخ محمداورلبی کوگرفتارکیاگیا۔حکومت کوپاکستان کی مسلح افواج پرپورابھروسہ ہے،پاکستانی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں،ملکی اسٹریٹجک اثاثوں کیخلاف کوئی کارروائی برداشت نہیں کی جائیگی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
169