19 مارچ 2011 - 20:30

کرم ایجنسی پاراچنار سے منتخب قومی اسمبلی کے ممبر و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے سیفران ساجد حسین طوری نے یوتھ آف پاراچنار کے زیراہتمام اسلام آباد پریس کلب کے سامنے گزشتہ چھ روز سے جاری بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک ایک انتہائی جھوٹا انسان ہے اور اس نے کبھی اپنے وعدوں کو ایفا نہیں کیا ہے۔

پریس ریلیز

 کرم ایجنسی پاراچنار سے منتخب قومی اسمبلی کے ممبر و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے سیفران ساجد حسین طوری نے یوتھ آف پاراچنار کے زیراہتمام اسلام آباد پریس کلب کے سامنے گزشتہ چھ روز سے جاری بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رحمان ملک ایک انتہائی جھوٹا انسان ہے اور اس نے کبھی اپنے وعدوں کو ایفا نہیں کیا ہے۔ پاراچنار روڈ کے حوالے سے 48 گھنٹوں کی ڈیڈلائن جو کہ رحمان ملک نے اسمبلی فلور پر دی تھی وہ ڈیڈلائن آج شام پوری ہو رہی ہے اور ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ ساجد طوری نے کہا کہ رحمان ملک کے جھوٹے وعدے سب پر واضح ہیں۔ رحمان ملک جیسے جھوٹے اور شیطان انسان کو اسمبلی میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں اور اگر وہ تھوڑی بھی شرم و حیا رکھتا ہے تو اس کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے۔ ساجد حسین طوری نے کہا کہ جب تک پاراچنار کے مسائل حل نہیں ہوتے اور ہمارے مطالبات منظور نہیں کیے جاتے میں آپ شرکاءبھوک ہڑتالی کیمپ کے ساتھ صبح 9 بجے تا شام 6 بجے یہی بیٹھا رہوں گا اور اسمبلی کے کسی اجلاس میں مطالبات کی منظوری تک احتجاجاً شرکت نہیں کروں گا۔ ساجد طوری آج شام دوبارہ اپنے ساتھی پارلیمنٹیرین کے ہمراہ بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کریں گے اور پریس کلب تا پارلیمنٹ ہاﺅس آج ہونے والی ریلی کی قیادت کریں گے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ آج ساتویں روز بھی جاری ہے اور شرکاءنے مطالبات کی منظوری تک بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھنے کا اعادہ کیا ہے۔ آج پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے زور دار دھرنا دیا جائے گا اور وزیرداخلہ شیطان ملک کو اس کا وعدہ یاد دلا کر اس کے جھوٹ کو دنیا پر واضح کر دیں گے۔  شرکاءسے یوتھ آف پاراچنار کے چیئرمین سید علی شاہ کاظمی نے کہا کہ سیاسی حکومت اور اسمبلی انتہائی نااہل اور بے بس ہے اور پاراچنار کے مسائل بالخصوص روڈ کو محفوظ بنانے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز اشرف کیانی اپنا کردار ادا کرے۔ ٹل پاراچنار شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے فوری طور پر پاک آرمی تعنیات کی جائے اور مناسب جگہوں پر آرمی کے مستقل چیک پوسٹ قائم کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل پرویز کیانی طوری و بنگش محب وطن قبائل کی وفاداریوں کا مزید امتحان نہ لے اور فوری طور پر روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے احکامات صادر فرمائیں۔ طوری بنگش قبائل کے مطالبات1: 25مارچ سے لاپتہ 33اغوا شدہ افراد کو طالبان کے چنگل سے فوری طور پربازیاب کرایا جائے۔ 2: ٹل پاراچنارروڈ کو صحیح معنوں میں محفوظ بنانے کیلئے مناسب فاصلہ پر آرمی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں۔3: طوری و بنگش اور دیگر قبائل میں ہونے والے مری معاہدہ پر عمل درآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔4: پشاور سے پاراچنار تک پی آئی اے سروس فوری طور پر بحال کی جائے اورہنگامی طور پر C-130سروس شروع کی جائے۔5: طوری ملیشیاءکو دیگر علاقوں سے واپس بُلا کر کرم ایجنسی میں تعینات کرایا جائے۔نوٹ: تمام ایڈیٹر صاحبان شام 5 بجے کے بعد اسلام آباد پریس کلب تا پارلیمنٹ ہاﺅس منعقد ہونے والی ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے اپنے رپورٹرز اور کیمرہ مین کی ڈیوٹیاں لگا کر تعاون فرمائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110