18 اپریل 2011 - 19:30

َ”تکفیری “عرب دنیا میں یہ اصطلاح اس شددت پسند سوچ کو کہا جاتا ہے جو اپنے عقائد اور نظریات زبردستی اور طاقت کے زریعے دوسروں پر تھوپنا چاہتی ہے البتہ اس اصطلاح کے ساتھ وہ متطرف، متشدد، تکفریین، جیسی دیگر اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں۔

ابنا: مجھے یاد ہے کہ حج کے موقع پر مدینہ کی ایک تاریخی مسجد میں ہم نے دیکھا کہ وزارت اوقاف کی جانب سے ایک پوسڑ آویزاں تھاجس پر عربی میں لکھا ہوا تھا فتنہ تکفیر یودی الی تفجیر یعنی جو تکفیری ہیں (بات بات پر کافر کافر کے نعرے لگاتے ہیں )وہی دھماکے کرتے ہیں ۔یورپ سے لیکر ایشیا تک اسی فکر نے اسلام جیسے امن و سلامتی اور رحمت کے دین کو تشدد ،دھماکے اور دہشت کے طور پر پہچنوایا ہے ۔عرب اور عالم اسلام کے دانشوروں کا اتفاق ہے کہ اس وقت تیونس ،مصر ،یمن اور بحرین سمیت متعدد ممالک میں جاری عوامی بیداری کی تحریک کو تکفیری سوچ سے شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں ۔ مصر کے معزول ڈکٹیٹر اورتیونس کے مفرور صدر کو عدالت کے کٹہرے سے بچانے کی کوششوں سے لیکریمنی صدر کو عوامی مطالبات کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے روکنے ،شام میں فلسطین کی حا می حکومت کے خلاف سازشوں تک یہ سوچ سرگرم ہے ۔عجیب ہے کہ غزہ پر جب اسرائیل نے حملہ کردیا تو اسی سوچ کے مفتیوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو بلوئے کہہ کر حرام قراردیا اور ابھی جب ڈکٹیٹرو´ں کے خلاف جمہوری کوششوں کے لے عوام اٹھی تو اسے بھی حرام قراردیا لیکن جب بات شام اور لیبیا کی حکومتوں کے خلاف عوام تحریک کی ہو تو یہی سوچ اسے جہاد اور واجب اور ان مظاہروں میں مر نے والا شہید ۔۔۔بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ کوئی فوجی اگر قذافی پر گولی چلائے تو اسے جائز ہے اس تمام تر صورت حال کا دلچسب پہلو یہ ہے کہ امریکہ پالیسی اور ان فتوﺅں میں مکمل ہم آہنگی نظر آتی ہے، مصری انقلاب کے لیڈروں اور علمائے کرام کے مطابق یہ فتوئے در حقیقت درباری نہ کہ اسلامی جن کا ہدف دین اور دینداروں کی حفاظت نہیں بلکہ کرسی اور حکمرانوں کو بچانا ہے ۔مشرق وسطی کے دو اہم ملک تیونس اور مصر میں عوامی انقلاب برپا ہونے کے بعد اس وقت سب سے بڑا خطرہ تکفیری سوچ کی جانب سے اس انقلاب کو خراب یا غلط سمیت میں موڑنے کا ہے اس سے پہلے اس بات کا خطرہ پیش کیا جارہا تھا کہ امریکہ کسی سیاسی عمل کے توسط سے انقلابات کو خراب کرسکتا ہے لیکن تازہ ترین صورت اطلاعات کے مطابق مصری انقلابیوں کا کہنا ہے کہ انہیں سیاسی ہتھکنڈوں سے زیادہ مذہبی تکفیریوں سے خطرہ ہے جن کی آڑ میں استعمار عوامی انقلاب کی سمیت کو موڑ سکتا ہے ،جیسا کہ اس وقت بحرین اور یمن میں کیا جارہا ہے تکفیریوں کی سبب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی عوام کے ساتھ نہیں رہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ سے انہوں نے ان حکمرانوںکا ساتھ دیا ہے جو ان کی فکر کو پروان چڑھانے میں مددگار رہے ہیں اور جہاںاس بات کے امکانات نظر نہیں آیے وہاں تکفیریوں نے تشدد اور خوف دہشت سے کام لینا شروع کیا ہے جس کی بڑی مثالیں عرق افغانستان اورپاکستان ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110