ابنا: کیتھرین ایشٹن کا یہ پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہےکہ یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کا دورہ ریاض، بحرین ویمن میں سعودی عرب کی مداخلت کے پیش نظر یورپی یونین کی خاموشی اور کمزور موقف پر تنقیدوں کے نتیجےمیں سامنے آیا ہے۔ آل سعود بحرین میں فوجی مداخلت اور یمن میں سیاسی ہتھکنڈوں سے ان ملکوں کی حکومتوں کی حمایت کرنے اور عوامی انقلابوں کو کچلنے کی بھرپورکوشش کررہی ہے۔ یورپی یونین شمالی افریقہ میں خود کو عوامی تحریکوں اور قیاموں کا حامی ظاہر کررہی ہے یہانتک کہ اس نے لیبیا کے ڈاکٹیٹرقذافی کے خلاف فوجی حملوں کی بھی حمایت کی ہے لیکن اس یونین نے یمن اور بحرین کے حالات کے تعلق سے الگ رویہ اختیار رکھا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف بحرین میں آل خلیفہ کی حکومت کی تشدد آمیز پالیسیوں کی مذمت نہیں کی بلکہ بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت اور عوام پر تشدد پربھی خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ یورپی یونین کے حکام جو صرف ایران میں انسانی حقوق کی پامالی کے بارےمیں جھوٹی اور بے بنیاد رپورٹوں پر رد عمل ظاہرکرتےہیں اس باربھی انہوں نے حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھتےہوئے بحرین میں ایران کی مداخلت کے بارےمیں سعودی عرب اور خلیج فارس کےدیگر عرب ملکوں کی رپورٹوں کو بڑے غور سے سنا اور رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت عالمی سطح بالخصوص عرب ذرایع ابلاغ میں بحرین کی خبروں کو پوری طرح سنسر کردیا گيا ہے اور ملت بحرین پرجو تشدد جاری ہے اس کی کوئي خبر نشر نہیں ہورہی ہے بلکہ یہ ذرایع ابلاغ بحرین میں ایران کی مداخلت کے بارےمیں جھوٹی اور بے بنیاد رپورٹوں اورخبریں نشرکرکےایران کے خلاف پروپگينڈا کررہےہیں۔ سعودی عرب جو خودکوخلیج فارس کے عرب ملکوں کا سرپرست سمجھتا ہے عوام کے انقلابوں سے اسے اپنا یہ کردار خطرے میں نطر آرہا ہےبنابریں وہ ایران کے خلاف امریکہ کی ایران فوبیا اور دوسروں کو اپنے مسائل کا ذمہ دار بنانے کی پالیسیوں پرعمل کررہا ہےاور اس طرح علاقے میں ایران کے خلاف پروپگينڈاکررہا ہے۔ ایشٹن کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر سعودی ذرایع ابلاغ بالخصوص العربیہ ٹی وی چینل یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایشٹن کے ساتھ سعودی حکام بحرین میں ایران کی مداخلت کے بارےمیں گفتگو کررہےہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے خلیج فارس اور شمالی افریقہ کی عوامی تحریکوں کے تعلق سے اپنے مواقف میں ہمیشہ ظالم اور استبدادی حکومتوں کے خلاف عوام کی امنگوں کی حمایت کی ہے۔ آل خلیفہ اور آل سعود کے ہاتھوں بحرین کے مظلوم عوام کی سرکوبی اور یورپی یونین کا ان حالات پر خاموش رہنا اور دفاعی موقف اپنانا عوامی انقلابوں کےتعلق سے ان کی دوہری پالیسیوں کو ظاہرکرتاہے۔ یورپی یونین نے شمالی افریقہ کےبعض ملکوں میں عوامی تحریکوں کی بظاہر حمایت کرکے ماضی میں ظالم حکومتوں کا ساتھ دینے کے اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن بحرین کی غیر جمہوری اور استبدادی حکومت کی حمایت کرکے یہ واضح کردیا ہےکہ یورپی یونین اپنے مفادات کے تحفظ کےلئے بحرین کی ظالم حکومت کی حمایت کرنے کےعلاوہ اور کوئي چارہ نہیں رکھتی بنابریں یہ کہنا درست ہےکہ ایشٹن بحرین کے عوام کے قیام کےبارےمیں جو بھی موقف اپنائيں گي وہ صرف میڈیا کی خوراک کہلائے گا اور ان سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ سیاسی لحاظ سے بھی بحرین کے عوام پر تشدد کی مخالفت کریں گي یا بیان دیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
18 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 237396
یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سعودی عرب کے دورےپرہیں۔ ان کے دورہ ریاض کا مقصد مشرق وسطی کے حالات پر سعودی حکام کے ساتھ گفتگو کرنا بتایا گيا ہے۔