15 اپریل 2011 - 19:30

ایران نے خبردار کیا ہے کہ بحرینی عوام کو کچلنے کے لئے پاکستانی افواج کی بھرتی کا سلسلہ روکنے میں ناکامی کی صورت میں دو پڑوسی ممالک کے سفارتی تعلقات متأثر ہوسکتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ بہروز کمالوندی نے تہران مین مقیم پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرکے ان سے کہا ہے کہ وہ بحرین میں جمہوری حقوق کے حصول کے جائز مطالبات کے لئے احتجاج کرنے والے پرامن مظاہرین کو کچلنے کے لئے پاکستان مین ریٹائرڈ فوجیوں کی بھرتی کے سلسلے میں ایران کی شدید تشویش فوری طور پر پاکستانی حکام تک پہنچا دیں۔پریس ٹی وی کی ویب سائٹ نے وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ ایرانی عہدیدار نے پاکستانی سفارتکار کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان مین بحرین کے لئے بھرتیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں تہران اور اسلام آباد کے سفارتی تعلقات پر نہایت ناپسندیدہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔دریں اثناء اسلام آباد مین پاکستانی سرکاری اہلکاروں نے ایران کے انتباہ کو نظر انداز کیا ہے اور اس ملک میں آل خلیفہ کی ناجائز شخصی حکومت بچانی کے لئے بھرتیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پاکستانی افواج سے وابستہ ایک ادارہ (فوجی فاؤنڈیشن) اس ملک کی بری، بحری اور فضائی افواج کے ریٹائرڈ فوجیوں کو بھرتی کررہا ہے جنہیں سعودی عرب اور بحرین میں تعینات کیا جائے گا اور انہیں "بھاری تنخواہیں" دی جائیں گی۔فوجی فاؤنڈیشن میں بعض ذرائع نے کہا ہے کہ بھرتی کئے جانے والے افراد میں سے 90 فیصد کو بحران زدہ بحرین کی حدود میں تعینات کیا جائے گا۔مارچ 2011 مین بحرین بھیجنے کے لئے 1000 ہزار پاکستانی فوجی بھرتی کئے گئے ہیں جبکہ آنے والے ہفتوں میں مزید 1500 پاکستانی فوجی بھرتی کرکے بحرین کے پرامن عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لئے اس خلیجی ریاست میں بھیجے جائیں گے۔ بحرینی عوام نے 14 فروری 2011 سے آل خلیفہ کی مطلق العنان حکومت کے خلاف مظاہروں کا آغاز کیا ہے؛ وہ بحرین میں آئینی اصلاحات، سیاسی حقوق اور آل خلیفی بادشاہت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔بحرینی عوام بحرین میں فساد و فحشاء کے اڈوں کے خاتمے اور بحرین کی اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی غرض سے بیرون ملک سے آئے ہوئے افراد کو شہریت دینے کے بھی خلاف ہیں اور شہریت یافتہ افراد کی شہریت کی منسوخی کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ آل خلیفہ حکام نے بحرین میں پرامن انقلاب کے خاتمے کے لئے اپنی تمام تر قوت استعمال کرنے اور ناکام ہوجانے کے بعد آل سعود اور آل نہیان نیز آل صباح اور آل ثانی خاندانوں سے بھی مدد مانگی اور اپنے ملک کو اجنبی قوتوں کے حوالے کیا جبکہ پاکستان سے بھی بڑی تعداد میں کرائے کے فوجی منگوائے اور اسرائیل سے بھی مدد مانگی لیکن عوام نے اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ ان کا احتجاج بیرونی افواج کے انخلا اور سعودی قبضے کے خاتمے نیز آل خلیفہ کی مطلق العنانیت کے خاتمے، جمہوریت کے قیام، جائز مطالبات کی منظوری اور مختلف قسم کے افکار کو نظام حکومت میں شمولیت کی اجازت دیئے جانے تک جاری رہے گا۔ فروری کی 14 تاریخ سے شروع ہونے والی پرامن تحریک کو اب تک بری طرح کچلنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں اور مہذب ترین انقلابی تحریک کو غیر مہذب ترین انداز، تشدد اور انسانیت مخالف اقدامات کے ذریعے کچلنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ سینکڑوں جیلوں میں تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، ہزاروں زخمی ہیں جنہیں علاج معالجے کی سہولتوں سے مکمل طور پر محروم کیا گیا ہے، سینکڑوں لاپتہ ہیں اور متعدد اہم انقلابی راہنماؤں کو تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے اور کئی اہم راہنماؤں کو قید کرلیا گیا ہے جن کا اپنے خاندانوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے اور ان میں سے کئی راہنماؤں کو تشدد کرکے قتل کئے جانے کی اطلاعات گردش کررہی ہیں۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق گذشتہ مہینے آل خلیفہ سے وابستہ بیرونی کرائی کی غندون نے منامہ یونیورستی کی گرلز ہاستل پر حملہ کیا تہا جس مین متعدد لرکیان زخمی ہوگئی تہیں اور ان مین سے ایک طالبہ جو آج تک زیر علاج تہیں، آج زخمون کی تاب لا کر شہید ہوگئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110