ابنا: صدر احمدی نژاد نے اس تقریب میں اپنے خطاب میں ایران میں حالیہ دنوں میں ایٹمی شعبے میں انجام دیئے جانے والے کارناموں کو سراہا۔ انہوں کہا کہ ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی تیاری اور اسے برآمد کرنے کے مرکز میں تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں علم اور سائنس کے سلسلے میں جو ترقی ہوئي ہے وہ دنیا کی اوسط ترقی سے کئي گنا زیادہ ہے اور ایران میں ایٹمی میدان میں ہونے والی ترقی اس ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صدر احمدی نژاد نے اسی طرح سے تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے لیے ضروری ایٹمی ایندھن کے تبادلے کی موضوع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب والوں کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایران تہران ری ایکٹر کے لیے ضروری اشیاء اور ایٹمی ایندھن تیار کر لے گا۔ صدر نے ایران کے ایٹمی مسئلے میں دوہری پالیسیاں اختیار کرنے پر مغربی ممالک کی مذمت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں ایٹمی ایندھن کی تیاری سے دشمن، تہران کے خلاف اپنی پالیسیوں کو نافذ کرنے کے تعلق سے مایوس ہو گيا ہے اور اب کوئي بھی طاقت ایرا ن کی قوم کی پیشرفت میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ایرانی قوم ایک ناقابل شکست قوم ہے، کہا کہ آج یہ قوم جس کام کا بھی فیصلہ کرلے، دنیا کی کوئي بھی طاقت اس میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ اس تقریب سے ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی نے بھی خطاب کیا اور ایٹمی شعبے میں ایران کے حالیہ کارناموں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر صدر احمدی نژاد نے ایران میں تیار کیے جانے والے نئي نسل کے ایٹمی سینٹری فیوجز کی رونمائی بھی کی۔
ملت ایران نےاپنےاعتمادسےترقی کی چوٹیاں سرکی ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژاد نےملت ایران کوپراعتماد ترین قوم قراردیاہے۔ہمارےنمائندےکی رپورٹ کےمطابق صدراحمدی نژاد نےآج تہران میں کوآپریٹیو، اور روزگارکےمواقع کی فراہمی کےزيرعنوان ہونےوالی کانفرنس سےخطاب کرتےہوئےکہاکہ ملت ایران کی صلاحیتیں مثالی ہیں اوریہ قوم دنیاکےپراعتماد ترین قوم ہے۔صدراحمدی نژاد نےکہاکہ تمام میدانوں میں ایران کی ترقی کےلئےمواقع فراہم ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژاد نےکہاکہ دشمن اس فکرمیں تھاکہ ایران میں سائنسی ترقی نہ ہوسکےلیکن ملت ایران نےاپنےاعتماد کےبھروسےترقی کی چوٹیاں سرکرلی ہیں اورکوئي بھی میدان ایسانہيں جوایرانی سائنسدانوں کی پہنچ سےباہرہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110