10 اپریل 2011 - 19:30

حزب اللہ لبنان کےسربراہ سیدحسن نصراللہ نے ایران کےخلاف حریری کےبیانات کو بےبنیاد قراردیاہے۔

ابنا: فارس نیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق سیدحسن نصراللہ نےاپنےخطاب میں ایران کےخلاف حریری کےبیانات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ حریری اسرائیل کوبحران سازقراردینےکےبجائےبغیرکسی ثبوت کےلبنان میں ایران کی مداخلت کادعوی کررہےہيں جبکہ ایران ان معدودےچندممالک میں سےتھاجس نےلبنان کےخلاف تینتیس روزہ جنگ میں مدد کی اورہم اسرائیل کوشکست دینےمیں کامیاب رہے۔حزب اللہ لبنان کےسربراہ نےایران کوایک مضبوط ملک قراردیتےہوئےتاکیدکی کہ ایران کو ہماری حمایت کی ضرورت نہيں ہے۔حزب اللہ لبنان کےسربراہ سیدحسن نصراللہ نےمیشل عون اور ولیدجنبلاط کی سیاسی جماعتوں کوحزب اللہ کی اتحادی قراردیاا ورکہاکہ جنبلاط اپنےماضی سےالگ ہوچکےہيں اوراب وہ حزب اللہ کےساتھ ہيں۔حزب اللہ کےجنرل سکریٹری نےاپنےخطاب کےدوران آئیویری کوسٹ کےبحران کی جانب اشارہ کیااورکہاکہ سعدحریری کو سابق وزيراعظم کی حیثیت سے اس ملک میں پھنسےہوئےلبنانیوں کےسلسلےمیں حساسیت کامظاہرہ کرنا چاہئے۔سیدحسن نصراللہ نےآئیویری کوسٹ کےسیاسی واقعات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ اس سلسلےمیں بیان دینا وزارت خارجہ کاکام ہے لیکن ہماری انسانی ذمہ داری کاتقاضہ ہےکہ ہم آئیویری کوسٹ میں پھنسے ہوئے لبنانیوں سےلاتعلق نہ ہوجائيں۔سیدحسن نصراللہ نےحزب اللہ کوامریکہ کی آنکھ کاکانٹااورصیہونی حکومت کےمنصوبوں پرعمل درآمد میں روکاوٹ قراردیتےہوئےتاکیدکی کہ آج اسرائیل، امریکہ اورمغرب کوئی بھی حزب اللہ کومیدان سےنہيں ہٹاسکتا۔حزب اللہ لبنان کےسربراہ نےکہاکہ بحرین کےواقعات مذہبی نہيں ہیں لیکن اس ملک کامسئلہ یہ ہےکہ وہاں جمہوریت نہيں ہے اورآل خلیفہ کی جانب سےلبنانیوں کوبحرین سےنکالنے سےبحرین کامسئلہ حل نہيں ہوگا۔حزب اللہ لبنان کےسربراہ سیدحسن نصراللہ نے اس دعوےکومستردکرتےہوئےکہ حزب اللہ ، لبنان کی نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیرکی خواہاں ہےتاکیدکی کہ حزب اللہ حکومت کی فوری تشکیل کی خواہاں ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110