ابنا: پارلیمنٹ کے ممبران نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج عالم اسلام لیبیا یمن اور بحرین کے عوام کے قتل عام پر خون کے آنسو رو رہا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان عوام کے دل بعض نام نہاد اسلامی حکومتوں کے حکمرانوں کے ہاتھوں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے نہيں تھکتے اپنے ہی ملک کے شہریوں وحشیانہ مظالم پر مجروح ہيں۔ مغرب کے انسانی حقوق کے دعویدار بھی جو دہشت گردوں اور منشیات کے اسمگلروں کو پھانسی دئے جانے پر انسانی حقوق کے نام پر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہيں علاقے میں ڈکٹیٹر حکمرانوں کے ذریعہ کھیلی جارہی خون کی ہولی کا تماشا دیکھ رہے ہيں ایسی خون کی ہولی جو امریکہ اور اسرائیل کے براہ راست یا بالواسطہ کہنے پر کھیلی جارہی ہے۔ آج عالم اسلام کے تمام علاقوں کے مسلمانوں کی صدائے احتجاج علاقے کی اقوام پر ہونے والے ان مظالم پر خاص طور پر بحرین میں نہتے شہریوں پر سعودی عرب کی غاصب فوج کے وحشیانہ اقدام پر بلند ہے حتی یہ صدائے احتجاج خود سعودی عرب کے اندر بھی بلند ہورہی ہے آج عالم اسلام کے لوگ سعودی عرب کی فوج کو درندہ اور تہذیب سے عاری فوج قراردے رہے ہيں جس کے اندر اسلامی غیرت و حمیت چھو کر بھی نہيں ہے اور دنیابھر کے مسلمانوں کی صرف ایک ہی آواز ہے کہ بحرین سے سعودی عرب کی فوج کو نکل جانا چاہئے اس سوال میں بہت وزن ہے کہ اگر سعودی عرب کی فوج میں ہمت و جرات ہے تو وہ مظلوم فلسطینیوں بالخصوص غزہ کے بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کے خلاف کیوں نہیں بولتی اور اگر ایسا نہیں ہے تو بحرین کے بے گناہ عوام پر جن میں خواتین و بچے سبھی شامل ہیں طاقت کا استعمال کسی بھی لحاظ سے یہ ظاہر نہيں کرتا کہ سعودی عرب کی فوج ایک طاقتور فوج ہے بلکہ یہ اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے ممبران نے ایران کے علماء اور مراجع کرام کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے عوام کی تاريخ ہمیشہ ان مظالم کویاد رکھے گی اور ان مظالم کے نتائج بلاشبہہ الہی وعدے کے مطابق خود ظالموں کی ہی طرف لوٹیں گے ۔بحرین میں عوام کے قتل عام پر ایران کے حوزہ ہائے علمیہ اور علماء کرام ومراجع عظام نے جلسے جلوس اور بیانات جاری کرکے بحرینی، سعودی اور اغیار کی دیگر فوجوں کے ہاتھوں بحرین کے بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی مذمت کی اور کہا کہ علاقے میں اسلامی بیداری کی لہر آزادی خود مختاری اور اسلام کی جانب اقوام کی بازگشت کی علامت ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہيں ان مظاہروں اور جلسوں میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ظالم حکمرانوں کے مظالم کا انجام بہت جلد سامنے آجائے گا کہا گیا ہے کہ عام شہریوں پر جو اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہيں ڈھائے جانے والے مظالم امریکہ اسرائیل اور سامراجی طاقتوں کی ایماء پر ہورہے ہيں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110