4 اپریل 2011 - 19:30

بقلم: ڈاکٹر برات شمسا ترجمہ: ف ۔ ح ۔ مہدوی

خلیج فارس تعاون کونسل 1981 میں، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے دوسال بعد تشکیل پائی اور اس مقصد اسلامی انقلاب کا مقابلہ کرنا تہا۔ مقصد یہ تھا کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں پر قائم ریاستیں مغربی دنیا سے ہماہنگ ہوکر ایران کا مقابلہ کریں۔ اس کونسل نے گذشتہ 30 برسوں سے مسلسل تین جزائر پر ایران ـ امارات تنازعے پر اصرار کرتے ہوئے ان جزائر کو امارات کی ملکیت قرار دینے کی کوشش کی لیکن حال ہی میں منعقدہ اجلاس میں اس کونسل نے اپنے تیس سالہ دعوؤں کے بطلان کا ثبوت دیتے ہوئے جزائر کے موضوع کو علاقائی تنازعے کی بجائے ایران اور امارات کے درمیان دو طرفہ مسئلہ قرار دیا جس کی وجہ سے مختلف حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا گیا اور ایک سوال کی صورت میں ہمارے سامنے بھی آیا کہ اچانک ایسا کیوں ہوا لیکن کچھ ہی روز بعد اس سوال کا جواب مل گیا جب امارات اور سعودی عرب نے بحرین پر جارحیت کی۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ بحرین میں عوامی تحریک اور ایران کے درمیان کس قسم کا تعلق ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل نے انفعالی اور معذرتخواہانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ایرانی جزائر پر اپنے دائمی دعوے سے وقتی طور پر ہاتھ کھینچ لیا؟ چار موضوعات ایسے ہیں جو ایران اور بحرین کے تعلق کو نمایاں کردیتے ہیں: 1۔ بحرین آج سے چالیس سال قبل تک سرزمین ایران کا حصہ تھا اور امریکی ـ برطانوی محاذ کی طرف سے ایک مکارانہ چال کے ذریعے اس کو ایران سے الگ کردیا گیا۔2۔ بحرین کی اکثریتی آبادی مذہب تشیع کے پیروکار ہیں اور اس ملک پر مسلط خاندان آل خلیفہ کا تعلق سنی اقلیت سے ہے گو کہ یہ خاندان سنیوں کا اہل تشیع سے زیادہ استحصال کرتا رہا ہے۔ 3۔ بحرین کو ایک عوامی تحریک کا سامنا ہے جس کی بنیاد اسلام پسندی ہے اور اس تحریک میں شیعہ اور سنی برابر کے شریک ہیں۔ سنی اور شیعہ دونوں آل خلیفہ خاندان کی سرنگونی کے خواہاں ہیں۔ 4۔ بحرین میں عوامی انقلاب کی کامیابی خلیج فارس میں انقلاب اسلامی کے موقف کو تقویت پہنچائے گی جبکہ امریکہ کا سب سے بڑا بحری فوجی اڈا اسے ملک کے ساحلوں میں قائم ہے۔ظاہر ہے کہ خلیج فارس کے جنوبی حصے کا "گاڈ فادر" یعنی آل سعود کی بادشاہت امریکہ کی حمایت سے بحرینی عوام کی تحریک کو قابو کرنے کے درپے ہے اور اس کو خدشہ تھا کہ اگر وہ بحرین میں فوجی مداخلت کرے تو ممکن ہے کہ یہ اقدام ایران کے مشتعل ہونے کا سبب بنے چنانچہ اس نے ایران کے اشتعال کی سطح کم کرنے کے لئے خلیج فارس تعاون کونسل کو ایرانی جزائر پر امارات کی مالکیت کے دعوے سے پسپائی اختیار کرلی۔ تعاون کونسل کا اجلاس اسی مقصد سے منعقد ہوا اور وقتی طور پر پسپائی کا اعلان بھی ہوگیا تا کہ ایران ایک اعلامئے پر ہی راضی ہوجائے اور دوسری طرف سے آل سعود امریکی حمایت اور تعاون کونسل کے رکن ممالک کی حمایت سے انقلاب اسلامی کے بڑھتے ہوئے ریلے کو بڑا نقصان پہنچاسکے۔ تعاون کونسل کا یہ اقدام ایک مکاری اور شرارت پر مبنی اقدام تھا۔ خلیج فارس تعاون کونسل نے بحرین میں ایران کی مداخلت کی خوف سے ایک سست اور بے بنیاد دعوے سے ہاتھ کھینچ لیا تا کہ بحرین پر لشکرکشی کرکے اس ملک کے عوام کو کچل دے اور خلیج فارس ـ خاص طور پر بحرین ـ میں پانچویں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی جاری رہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایران بحرین میں مداخلت کیوں نہیں کرتا؟ راقم کے خیال میں ایران کو مداخلت کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اسلام پسندی کے موقف میں ایران کی پامردی اور استقامت گذشتہ تین عشروں کے دوران ایک ایسا تناور درخت تھا جو اس وقت پھل دینے لگا ہے اور عرب دنیا میں عوامی بیداری اس تناور درخت کے میٹھے پھلوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ کسی زمانے میں ـ جب خلیج فارس کے اکثر علاقوں پر پرتگالی استعمار کا قبضہ تھا تو صفوی فرمانروا شاہ عباس صفوی نے انگریزوں کی مدد سے یہ تمام علاقے ان سے آزاد کروادیئے اور پرتگالی قابضین کو ایک سو سال تک آبنائے ہرمز پر ڈیرے ڈالے رکھنے کے بعد اس اہم علاقی سے دور بھگایا لیکن اب وہ زمانہ نہیں ہے اور خلیج فارس سے قابض مغربی افواج نکالنے کے لئے کسی طاقت کی حمایت کی ضرورت بھی نہیں ہے چنانچہ اس بار ایران علاقے کے مسلمان اور جاگی ہوئی قوموں کے تعاون سے خلیج فارس میں امریکی اڈوں کو یکے بعد دیگرے اکھاڑ پھینکے گا اور اس صورت میں خلیج فارس کے علاقے میں نئے دور کا آغاز ہوگا، نیا سیکورٹی نظام آجائے گا جس میں اجنبی قوتوں کا نام و نشان تک نہ ہوگا۔ یہی وہی حقیقت ہے جس کا راستہ روکنے اور علاقے میں صہیونیت کی بقاء کے لئے مداخلتیں ہورہی ہیں اور امریکہ کے حلیف امریکہ کا کردار ادا کرتے ہوئے علاقے کے عوام سے اپنی بیگانگی اور اجنبی قوتوں سے وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے جس کا سامنا کرنے کے سوا کسی کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110