1 اپریل 2011 - 19:30

شام کے دارالحکومت دمشق سمیت ملک کے مختلف شہروں میں صدر بشار اسد کی حمایت میں دسیوں ہزار افراد نے ریلی نکالی۔

ابنا: مظاہرین نمازجمعہ کے بعد اپنے ہاتھوں میں شام کے صدر بشار اسد کی تصاویر اوراپنے ملک کا پرچم اٹھائے حکومت کے حق میں نعرے لگارہے تھے درعا شہر کے لوگوں نے جہاں پچھلے دنوں کچھ عناصرنے شامی حکومت کے خلاف مظاہرے کئے تھے صدر بشار اسد کی حمایت میں سڑکوں پر نکل حکومت کے لئے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا شام کے صدر بشار اسد نے اپنے ملک میں بعض بیرونی ملکوں کی مداخلت کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغیار کی کوشش ہے کہ شام کے قبائل کے درمیان اختلاف پیدا کرکے ملک میں عدم استحکام پیدا کریں۔دریں اثناء لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے شام کے صدر بشار اسد سے ٹیلی فونک گفتگو میں شام میں بعض عناصر کی طرف سے کئی گئی فتنہ انگیزیوں کامقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر زوردیا ۔ لبنان کے وزیر اعظم نے کہا کہ شام کے عوام شامی حکومت کے ساتھ ہیں۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم عمر کرامی نے بھی شام کے صدر سے ٹیلی فونی گفتگو میں شام کے خلاف گھناؤنی سازشوں کی مذمت کی اس سے پہلے لبنان کے صدر بھی شام میں حالات پر سکون ہوجانے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہيں کہ امن و استحکام کا قیام دونوں ملکوں کے لئے ضروری ہے لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے شام کے صدر سے اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ شام کے حالات پرسکون ہیں اور شام فقط اپنے ہی عوام کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ وہ عرب اقوام کا بھی حامی ہے ۔ لبنان کے ٹیلی ویژن چینل المنار نے کہا ہے کہ شامی فوج نے ایسی کشتیوں کو پکڑا ہے جن میں لبنان سے شام کے بندرگاہی شہر لاذقیہ کے لئے اسلحے جارہے تھے جو شام کی حکومت کے مخالف عناصر کے حوالے کئے جانے تھے یہ اسلحے لبنان میں سعدحریری کی جماعت المستقبل کی طرف سے بھیجے جارہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110