25 مارچ 2011 - 19:30

انقلاب تکبیر کا سلسلہ جاری/ دراز کے علاقے پر حملہ / شیخ حسن المشیمع کا خاندان سے مختصر رابطہ / "حصار توڑ مظاہروں کے لئے تیاریاں / منامہ میں لبنانیوں کی گرفتاری / ایک راہنما کی گرفتاری کی ناکام کوشش / شیخ محمد علی محفوظ پابند سلاسل / مذموم سازش / نماز جمعہ سے پہلے پہلے شدید سیکورٹی ماحول

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے مظلوم عوام ایسے حال میں آل خلیفہ کے ظلم و ستم اور بدعنوانیوں کے خلاف 25 مارچ کو اپنے انقلاب کے چالیسویں دن میں داخل ہوئے کہ مارشل لاء کے باوجود حصار شکن مظاہرے منعقد کرنے کا منصوبہ ہے:

00:05 بجے صبح: تکبیر کا سلسلہ جاری

آج رات بھی عوام نے اللہ اکبر کے نعرے جاری رکھے اور بحرین کے اکثر علاقے تکبیر کی صداؤں سے گونج رہے ہیں۔ اللہ اکبر کے نعرے آل خلیفہ اور آل سعود کی نیندیں حرام کررہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کہ کسی ملک پر قابضین اور غاصبین کی نیندیں اس عظیم نعرے سے حرام ہوا کرتی ہیں اور دل کانپا کرتے ہیں۔ 00:35 بجے صبح: دراز کے علاقے پر حملہمنامہ کے علاقے "دراز" سے اطلاعات ہیں کہ آل خلیفہ اور ال خلیفہ کے گماشتوں نے رات کی تاریکی میں اس علاقے پر ہلہ بول دیا ہے اور محمد صالح الدرازی کو ان کے والد کے گھر سے گرفتار کرلیا ہے۔اس سے پہلے قائد شیعیان بحرین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر کو گھیرنے کی خبریں بھی ملی تھیں جن کی بعد میں تردید ہوئی۔آیت اللہ شیخ عیسی قاسم شیعیان بحرین کے روحانی پیشوا بھی ہیں اور بحرین کی سب سے بڑی نماز جمعہ کے امام بھی ہیں جہاں سے آج مظاہروں کا آغاز بھی ہوگا۔01:05 پاکستان میں شیعیان بحرین کے لئے دعائے جوشن صغیر کی مجالسملک بھر میں بحرین کے عوام سے اظہار یکجہتی اور غاصب سعودی افواج کے مقابل استقامت اور نصرت و کامرانی کے لئے دعائے جوشن صغیر کے اجتماعات منعقد کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں بشمول اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی، حیدر آباد، فیصل آباد، سرگودھا، ملتان، رحیم یار خان، کوئٹہ، لاڑکانہ، سکھر سمیت دیگر مقامات پر شیعہ تنظیموں اور ماتمی انجمنوںکے زیر اہتمام بحرین کے عوامکی انقلابی جد وجہد کی حمایت   اور ان کی کامیابی کے حق میں دعائی اجتماعات منعقد ہوئے جس میں دعائے جوشن صغیرکے اجتماعی پروگرام منعقد کئے گئے،دعائیہ اجتماعات میں ہزاروں مومنین نے شرکت کی اور دعائے جوشن صغیر کی تلاوت کی ۔واضح رہے کہ علمائے کرام کی اپیل پر ملک بھر میں مساجد اور امام بارگاہوں کے علاوہ گھروں میں بھی دعائے جوشن صغیر کے اجتماعی پروگرام منعقد کئے گئے ہیں جن میں بحرینی عوام کی استقامت اور فتح و کامرانی کے لئے خصوصی دعائیں کی گئی ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان بھر میں اجتماعی دعائے جوشن صغیرکا سلسلہ جاری ہے اور آجبھی ملک بھر کے بیشتر مقامات پر دعائیہ اجتماعات منعقد ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کوئٹہ سے اطلاع ملی ہے کہ کل رات مختلف مساجد اور حسینیات میں بحرینی عوام کی کامیابی اور قابض فوجوں کی جلد از جلد ناکامی اور بحرین سے انخلاء کے لئے جوشن صغیر کی مجالس ہوئی ہیں۔یادرہے کہ دعائے جوشن صغیر کی یہ مجالس تہران کے حضرت عبدالعظیم الحسنی، مسجد جمکران سمیت قم کے متعدد مقدس مقامات اور ایران کے گوشے گوشے میں بھی منعقد ہوئی ہیں۔ 02:30 بجے ـ المشیمع کا مختصر ٹیلی فونک رابطہاستاد شیخ حسن المشیمع ـ جو آل سعود ـ آل خلیفہ کی قید میں ہیں نے کل رات اپنے خاندان کے ساتھ مختصر سا ٹیلی فونک رابطہ قائم کیا اور کہا کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ انہیں کس مقام پر رکھا گیا ہے۔ شیخ حسن المشیمع برسوں جلاوطنی کے بعد حال ہے میں بحرین واپس آئے تھے اور سعودی جارحیت کے فوراً بعد گرفتار کئے گئے۔ بعض غیر مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بحرین کے گرفتار راہنماؤں کو سعودی عرب پہنچایا گیا ہے۔

04:00 بجے ـ عوام محاصرہ توڑنے کے لئے مظاہرے میں شرکت کے لئے تیار

آج بحرین میں "حصار شکن" ریلیوں کا پروگرام ہے۔14 فروری انقلابی الائنس نے عوام سے ریلیوں میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے روٹس کا بھی اعلان کیا ہے۔ الائنس نے کہا ہے کہ آج بحرینی قوم اور قابضین و غاصبین غیر متوقعہ واقعات کا سامنا کریں گے۔ دوسری طرف سے قابض فوجوں کی موجودگی کی بنا پر عوام کے قتل عام کا امکان مد نظر رکھتے ہوئے بحرین سے باہر کی دنیا میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے گوکہ بحرینی عوام خوف کی دیواریں توڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے حکمران اور قابض افواج کے خوف میں روز بروز اضافہ ہورہے ہیں۔04:19 بجے ـ عالمی ریڈکراس نے آل خلیفہ خاندان کو خبردار کیاعالمی ریڈکراس نے ایک بیان میں آل خلیفہ خاندان کے حکمرانوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ہسپتالوں کا محاصرہ ختم کریں اور طبی عملی اور دوائیوں تک رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔خلیج فارس کے علاقے میں بھیجے گئے عالمی ریڈ کراس کے ایلچی "جیرالڈ بیٹرینی" نے کل کویت میں جاری کردہ اپنے بیان میں، گذشتہ کئی دنوں کے دوران آل خلیفہ کی تشدد آمیز کاروائیوں اور متعدد افراد کی شہادت اور زخمی ہونے کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس میں شک نہیں ہے کہ بیرونی افواج کے بحرین میں داخلے کی بعد تشدد آمیز کاروائیوں میں شدت آئی ہے جبکہ یہ تمام اقوام عالم کا فرض بنتا ہے کہ وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرنے کا انتظام کرے اور ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ان کا علاج معالجہ کرنے کے لئے ضروری سہولیات فراہم کرے اور ایمبولینسوں کے ذریعے انہیں اسپتالوں میں پہنچانے کا بندوبست کریں اور فوجی اور سیکورٹی اہلکاروں کا بھی عالمی قوانین کے تحت فرض بنتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور ان پر علمدرآمد کریں۔ انھوں نے کہا کہ نہتے شہریوں پر تشدد کرنا اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال بین الاقوامی قوانین کے تحت جرم ہے اور بحرین میں موجود اندرونی اور بیرونی افواج کو ان قوانین اور معیاروں کا قطعی طور پر لحاظ رکھنا چاہئے۔7:23 بجے ـ منامہ میں لبنانیوں کی گرفتاریاںآل خلیفہ حکمرانوں نے بحرینی عوام سے کہا ہے کہ وہ لبنان نہ جائیں اور بحرینی وزارت داخلہ نے "جاسوسی" کا "گھسا پھٹا" الزام لکا کر بحرین میں لبنانی شہریوں کی گرفتاریوں کا حکم دیا ہے۔نیز ایک طرف سے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے مطلق العنان آل خلیفہ حکومت کے مد مقابل اس ملک کے عوامی انقلاب کی حمایت کی ہے تو بحرین کے عبوری وزیر اعظم سعد حریری نے عرب ملکوں کے خاندانوں کے مطلق العنان حکمرانوں سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے آل خلیفہ حکمران "حَمَد بن عیسی آل خلیفہ" سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے سید حسن نصر اللہ کے موقف پر تنقید کی ہے۔

8:45 بجے ـ بحرینی عوام کے قیام کی سرکوبی کی مذمت کا سلسلہ جاریعراق کی بابل یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ نے ریلی منعقد کرکے بحرین سے آل سعود، آل صباح اور آل نہیان کی فوجوں کے فوری انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ بابل میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے بھی آل خلیفہ، آل صباح اور آل نہیان کی فوجوں کے توسط سے بحرین پر بیرونی قبضے کے خلاف مظاہرہ کیا اور بحرینی عوام کی سرکوبی کے مقابلے میں مقتدر بین الاقوامی موقف کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے بحرین میں خلیجی خاندانی حکومتی کے مظالم کے سامنے عرب ممالک کی خاموشی کی بھی مذمت کی۔

9:30 بجے ـ اردنی عبداللہ دوئم اور بحرینی ولیعہد کے مذاکراتبحرین کے ولیعہد نے شاہ اردن عبداللہ دوئم سے ملاقات کرکے بحرینی انقلاب کو کچلنے کی روشوں کے سلسلے میں ان سے صلاح مشورہ کیا ہے۔ بحرین کے ولیعہد نے عوام کو کچلنے کے اپنے منصوبوں کے لئے اردنی بادشاہ کی پشت پناہی کا شکریہ ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آل خلیفہ خاندان سعوی، اماراتی، قطری اور کویتی فورسز کی جارحیت کے باوجود عوامی انقلاب کو خاموش کرنے میں ناکام رہا ہے اسی لئے وہ مطلق العنان عرب حکمرانوں سے مزید امداد حاصل کرنے کے لئے عرب ممالک کے دورے کررہے ہیں۔ 09:50 بجے ـ بحرین کا بحری محاصرہ  ایک طرف سے بحرینی عوام نے جمعة الغضب کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف سے سعودی اور امریکی بحری جہازوں نے مل کر بحرین کا مکمل بحری محاصرہ کرلیا ہے۔ 10:04 بجے ـ ایک راہنما کی گرفتاری کی ناکام کوششقابض آل سعودی فورسز نے کل بحرین