20 مارچ 2011 - 20:30

لیبیا میں انقلابیوں کےخلاف فوجی کارروائی فوری طور پر بندکردینےکااعلان کردیاگیاہے۔

لیبیا کے وزیرخارجہ نےدعوی کیاہےکہ یہ قدم شہریوں کومحفوظ رکھنےکی غرض سے اٹھایاگیا ہے۔اور سلامتی کونسل کا لیبیامیں فوجی کاروائی کی اجازت دیناایک غیرذمہ دارانہ عمل تھا۔ لیبیاکےوزیرخارجہ دعوی چاہے جو بھی کریں لیکن حقیقت یہ ہےکہ قذافی کی آمرحکومت گذشتہ کئی ہفتوں سےلیبیاکےعوام پراندھادھند بمباری کررہی تھی اوربمباری روکنےکافیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا پر نوفلائي زون قائم کرنے کی قرارداد کو منظوری دیدی اس قرارداد کی روسے انسانی حقوق کونسل میں لیبیا کی رکنیت معطل کردی گئي ہے۔ سلامتی کونسل نے دکٹیٹر قذافی کے حملوں کوروکنے کے لئے فضائي حملوں کی بھی اجازت دی ہے۔ قرارداد میں کہا گيا ہےکہ لیبیا کے شہریوں کی حفاظت کے لئے تمام ضروری اقدامات کئےجائيں گے۔ ڈکٹیٹر قذافی نے اس قرارداد کے بعد انقلابیوں سے مذاکرات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ انقلابیوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد کا خیرمقدم کرتےہوئے جشن منایاہے۔
لیبیا کے انقلابیوں کا کہنا ہےکہ ڈکٹیٹر قذافی انقلابیوں کے خلاف کاروائياں کرنے کے لئے صیہونی ماہرین کی خدمات حاصل کررہا ہے۔ انقلابی جوانوں کے ترجمان نے کہا کہ مزید پانچ صیہونی فوجی ماہرین لیبیا پہنچے ہیں۔
لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے اور 'شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات‘ کی منظوری دینے کے بعد مغربی طاقتیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے کے فیصلے کو کس طرح نافذ کیا جائے۔
سلامتی کونسل کی اس قرارداد کا مقصد کرنل قدافی کی فوجوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں باغیوں پر فضائی حملوں سے بظاہرروکنابتایاگیاہے فرانس نےکہاہے کہ لیبیا پر چند گھنٹوں میں فضائی حملے کیے جا سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے تفصیل اور وقت کے تعین کے بارے میں کچہ نہیں کہاگیاہے جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم نے جمعہ کو برطانوی جنگی جہاز کی بحیرۂ روم کی جانب روانگی کااعلان کردیاہے۔برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ہاؤس آف کامنز سے اپنے خطاب میں کہا کہ برطانوی جنگی جہاز بین الاقوامی آپریشن میں شرکت کریں گے جس کا مقصد لیبیائی عوام کو کرنل قذافی کی حامی فوج کے حملوں سے بچانا ہے۔ کرنل معمر قذافی کی حامی فوج باغیوں کے مضبوط گڑھ بن غازی کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جمعہ کو میسراٹہ پر بمباری کی بھی اطلاعات ہیں۔ ڈکٹیٹر قذافی نے وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کی فوج بن غازی کو واپس لے کر رہے گی اور اس ضمن میں' کوئی رحم‘ نہیں کیا جائے گا۔ سکیورٹی کونسل کی قرار داد کی منظوری کے بعد امریکہ کے لہجے میں اچانک تلخی آ گئی ہے اور صدر اوباما نے جمعہ کو اپنے سخت ترین بیان میں کہا ہے کہ اگر کرنل قدافی اب بھی اقتدار سے علیحدہ نہ ہوئے تو امریکہ کی فوج بھی لیبیا کے خلاف کارروائی میں شریک ہو جائےگی۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کچھ عرب ممالک کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا اگر فوجی کاروائی سے بچنا چاہتا ہے تو وہ بن غازی کی جانب پیشقدمی کو روک دے اور مصراتہ اور زوایہ سے اپنی فوجوں کو نکال لے۔
اطلاعات ہیں کہ آج پیرس میں ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں فرانس، برطانیہ ، جرمنی ، اقوام متحدہ کے سربراہان، اور عرب لیگ کے نمائندے شریک ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر کےمطابق پیرس میں ہونے والی میٹنگ کے چند گھنٹوں بعد لیبیا کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔
توقع ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ان کے عرب اتحادی ان حملوں میں شامل ہوں گے جب کہ ناروے بھی ان میں شامل ہو گا۔ لیکن لیبیا کے پڑوسی ملک مصر نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے لیبیا پر کسی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔یہ تمام رپورٹيں اورخبریں ایک طرف لیکن ،لیکن عالمی رائےعامہ کےذہنوں میں جوسوال شدت سےسراٹھارہاہے وہ یہ ہےکہ لیبیامیں مظاہرین کی حمایت اورحکومت کےخلاف تواتنےسخت اقدامات کئےجارہےہیں کہ حملےکی تیاری ہورہی ہےاورعرب ممالک بھی اس میں شامل ہونےکےلئےپرتول رہےہیں لیکن خود خطہ عرب میں بالخصوص بحرین اوریمن جیسےملکوں میں حکومت کی حمایت اورمظاہرین کوکچلنےکےلئےفوج بھیجی گئی ہے اورسعودی عرب کی فوج نے تو بحرین میں بربریت کی انتہا کرتے ہوئے مظاہرین کو سختی سے کچل دیا اور اسپتالوں تک کامحاصرہ کرلیا جس کی وجہ سےزخمی مسجدوں اورگھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہيں اور گھروں میں ہی زخمیوں کے علاج معالجے پر مجبور ہیں۔ را‏ئےعامہ یہ سوال کررہی ہےکہ لییبیااوربحرین کےسلسلےمیں امریکہ سمیت مغربی ممالک اورخود عرب ممالک کایہ دہرا رویہ کیوں؟ کیاصرف لیبیاکےعوام کاخون سرخ ہے؟ کیاصرف لیبیاکےعوام کوآزادی وجمہوریت کےلئےجدوجہد کاحق حاصل ہے؟کیاصرف کرنل قذافی ہی ڈکٹیٹرہے؟ اس دہرےرویےاوردوغلی پالیسی کاسبب کیا ہے اگرلیبیامیں ڈکٹیٹرقذافی اپنےعوام کی تحریک آزادی کوکچلےتو اس پرنوفلائي زون مسلط کردیاجائےاوربعض عرب ممالک اورمغربی ممالک اس پرحملےکی تیاری شروع کردیں لیکن بحرین میں عوامی مظاہرین کوکچلنےکےلئےامریکہ کی ایما پرسعودی عرب سمیت بعض دوسرےعرب ڈکٹیٹروں کی فوجوں کو خون کی ہولی کھیلنےاورایک ڈکٹیٹرکی بادشاہت بچانےکےلئےعوام پرعرصہ حیات تنگ کرنےکی چھوٹ دےدی جائے۔آخریہ کہاں کاانصاف ہے؟ کہیں ایساتونہيں کہ ڈکٹیٹرقذافی کی طرف سےملنےوالی رشوت اورتیل اب ناکافی ہوتاجارہاتھااوربحرین کےآمرکی طرف سےملنےوالےفوجی اڈےکی ابھی امریکہ کو ضرورت ہے اوراسی کی حفاظت کےلئےاس نےاپنی کٹھ پتلی سعودی شاہی حکومت کوبحرینی عوام کی تحریک آزادی کچلنےکےلئےمنامہ روانہ کیاہےکیونکہ اگربحرین میں انقلاب آگیاتوامریکہ کووہاں سےبھی اپنابوریابسترسمیٹناپڑےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110