28 مارچ 2010 - 19:30

مجلس علمائے بحرین کے سربراہ نے کہا ہے کہ بحرین کے عوام کسی صورت میں بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور "جزیرہ نما کی ڈھال" کو توڑ کر رکھیں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی مجلس علماء کے سربراہ شیخ مجید المشعل نے کہا ہے کہ بحرینی عوام کسی صورت میں بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔یادرہے کہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں نے "درع الجزیرہ" کے نام سے تشکیل شدہ فورس بحرین بھیج دی ہے اور ان کے اس اقدام کا بہانہ یہ ہے کہ وہ گویا ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں اور جب سے یہ فوجیں بحرین میں داخل ہوئی ہین بحرین کی سڑکوں سے آگ کے شعلے اٹھ رہے ہیں، دکانیں توڑی جارہی ہیں مساجد شہید ہورہی ہیں اور حتی کہ صحابی رسول حضرت صعصعہ بن صوحان کا مزار تک محفوظ نہین رہا ہے اور آل سعود کی فورسز نے اس کو منہدم کردیا ہے اور شہر کے مرکز میں واقع خوبصورت پرل اسکوائر بھی مکمل طور پر منہدم کردیا گیا ہے۔مجید المشعل نے کہا کہ بحرینی عوام اپنے مطالبات آگے بڑھانے کے لئے اس سے بھی زیادہ خون دینے کے لئے تیار ہیں وہ مساجد میں اجتماعات جاری رکھیں گے، شہداء کے جنازوں کے ساتھ اپنے جلوس اور ریلیان جاری رکھیں گے، اور اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کی قربانیاں دیں گے لیکن اپنے مطالبات سے ہرگز پسپا نہیں ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام کے خون سے ہولی کھیلنے اور بیرونی قوتوں سے استفادہ کرنے اور سعودیون کو فری ہینڈ دینے سے بھی بحرینی عوام کے عزم و ارادے میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی اور وہ اپنا قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا: عوام نے ابھی تک آل خلیفہ اور آل سعود کی فورسز کا آمنے سامنے مقابلہ کرنے سے گریز کیا ہے اور ابھی تک پر امن جدوجہد ہے کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے؛ کیونکہ وہ کسی صورت میں بھی اپنے مطالبات چھوڑکر آل خلیفہ اور اس کے بیرونی حامیوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ اور آل سعود کے جرائم اور درندگی کے بعد عوام کے اتحاد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ پر عزم ہیں اور درندگی اور وحشیانہ کاروائیوں کا واحد نتیجہ آل سعود اور آل خلیفہ کی بیشتر رسوائی اور بدنامی ہے اور آل خلیفہ کی قانونی حیثیت مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے اور آل خلیفہ خاندان کے حکام آج بالکل کمزور، قابل نفرت اور تنہا ہوگئے ہیں۔  انھوں نے کہا: دنیا کی تمام حریت پسند قومیں بحرین کے عوام کے ساتھ ہیں۔شیخ المشعل نے کہا کہ آل خلیفہ کا مذاکرات کا دعوی جھوٹا ہے کیونکہ بیرونی فورسز کو جارحیت کی دعوت دینے کے بعد مذاکرات معنی نہیں رکھتے۔انھوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنے دعوؤں میں سچی ہے تو پہلے بیرونی فوجوں کو ملک سے نکال دے تب جا کر مذاکرات کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے اور ہمارے عوام کسی صورت میں جنگ کا ارادہ نہںن رکھتے بلکہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق تک پہنچنا چاہتے ہیں

.........

/110