12 مارچ 2011 - 20:30

امریکی وزیرجنگ رابرٹ گیٹس نے برسلز میں نیٹو کی نشست میں افغانستان پر قبضہ جاری رکھنے کی آرزو ظاہر کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے لئے جلدی نہ کریں۔

ابنا: وال اسٹریٹ جورنل کے مطابق رابرٹ گيٹس نے نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں نیٹو اتحادیوں سے خطاب میں کہا کہ وہ ابھی افغانستان میں باقی رہیں۔امریکی وزیرجنگ نے یہ مطالبہ ایسے عالم میں کیا ہےکہ اس سے پہلے امریکی حکام نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن دوہزار چودہ کے خاتمے تک افغانستان سے نکل جائے گا۔رابرٹ گیٹس نے اپنے مطالبے کا جواز پیش کرتےہوئے کہا کہ افغانستان سے مغربی فوجیوں کے عجلت میں نکل جانے سے ان کی کامیابیوں پر پانی پھرجائے گا۔ امریکی وزیرجنگ ایسے عالم میں افغانستان میں اپنی نام نہاد کامیابیوں کی باتیں کررہےہیں کہ افغانستان میں امریکہ اورنیٹو کےہاتھوں عام شہریوں کی کے قتل عام میں کئي گنا اضافہ ہوا ہے اور نیٹو کی افواج بذات خود بدامنی کا سبب بن چکی ہیں۔صوبہ کنڑ اور قندوز میں عورتوں اور بچوں کا قتل عام نیٹو کے تازہ جرائم ہیں۔ حال ہی میں ان علاقوں پر نیٹو کی وحشیانہ بمباری میں نہتے اور بے گناہ لوگ مارے گئےہیں۔ یادرہے افغان عوام نے بارہا احتجاجی مظاہرے کرکے نیٹو کے ہاتھوں نہتے اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے اور افغانستان سےنیٹو کےانخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ افغانستان کی حکومت نے بھی نیٹو کے اس رویے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ادھر افغانستان کی حکومت چاہتی ہےکہ امریکہ اور نیٹو افغانستان کی سکیوریٹی فورسس کو ملک کا انتظام سونپنے کا عمل شروع کریں اور ملک کا انتظام افغانستان کے باشندون کے حوالے کیا جائے۔ رابرٹ گيٹس کا یہ بیان کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی کوئي جلدی نہیں ہے اور دوسری طرف سے امریکی حکام کا یہ کہنا کہ امریکہ اورنیٹو 2014 کے آخر تک افغانستان سے نکل جائيں گے ایک طرح کی چال ہے جس سے وہ افغانستان پر جاری اپنے قبضے کےخلاف داخلی اور بیرونی سطح پر اعتراضات کو کم کرنا چاہتا ہے اور اس ملک پربدستور اپنا قبضہ باقی رکھنا چاہتےہیں۔

...........

/110