اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق سعودی عرب کے الشرقیہ کے علاقے کے شہرالقطیف کے عوام نے اپنے بے گناہ قیدیوں کی رہائی کے لئے مظاہرہ کیا جن پر سعودی پولیس نے تشدد کیا اور خواتین سمیت کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔ مظاہرے الاحساء، القطیف اور العوامیہ میں منعقد ہوئے۔
شیعہ مظاہرین نے ان مظاہروں میں اپنے ان عزیزون کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں برسوں سے بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان کی قید کی انتہا کی کوئی تاریخ معین نہیں ہوئی ہے۔
مظاہرین شیخ توفیق عامر کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا جنہوں نے گذشتہ ہفتے شہری آزادیوں، آئین اور قانون کی منظوری، آزاد انتخابات کے نتیجے میں آزاد اور با اختیار پارلیمان کی تشکیل اور ملک میں مطلق العنان شخصی بادشاہت کی بجائے آئینی بادشاہت کے قیام کے مطالبات پیش کئے تھے جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا اور افراد خاندان کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
سعودی فورسز نے گذشتہ ہفتے بھی الشرقیہ میں اسی طرح کی پرامن ریلی کا راستہ بند کردیا اور مظاہرین کو منتشر کردیا۔
کل رات کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق سابق سعودی بادشاہ "فہد بن عبدالعزیز کے بیٹے محمد بن فہد ـ جو تقریبا گذشتہ 30 برس سے شیعہ اکثریتی علاقے القطیف کے گورنر ہیں ـ نے قطیف میں دھرنا دینے والے ان خاندانوں کو کچلنے کے احکامات دیئے ہیں جو اپنے گھر والوں کے حبس بے جا پر احتجاج کررہے ہیں اور ان میں خواتین اور بچوں کی خاصی تعداد بھی شامل ہے۔
نظر یوں آتا ہے کہ سعودی عرب میں آنے والے جمعے کو "یوم الغضب" کا اعلان کیا گیا ہے اور سعودی نوجوانوں نے آئنده جمعے کو عظیم ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا منصوبه بنایا هی؛ چنانچه لگتا هے کہ سعودی حکمران طوفان آنے سے قبل والے سکون سے گذر رہے ہیں۔
نئے اور اسلامی مشرق وسطی کی قدرتی اور فطرتی تشکیل نو کا سلسله جاری ہے، امریکی ـ اسرائیلی طرز کے عظیم تر مشرق وسطی کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے اور اسلامی مشرق وسطی کی تشکیل قوموں کی ہمت سے ہورہی ہے۔
مصر اور تیونس کے بعد لیبیا، یمن، بحرین اور اب سعودی عرب میں انقلاب کا آغاز ہوچکا ہے اور مظاہرے شیعہ علاقون تک ہی محدود نہیں رہے ہیں بلکہ گذشتہ جمعے کو شاید ریاض کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مظاہرین نے نظام حکومت میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110