ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق طالبان دہشت گردوں نے بدھ کے روز پاراچنار سے پشاور آنے والی ایک مسافر بس نمبر 2976کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 18شیعہ مسافر شدید زخمی ہو گئے۔بس میں سوار شیعہ مسافروں میں بچوں ،خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد دھماکے میں زخمی ہوئی ہے۔
بم دھماکے میں زخمی ہونے والے شیعہ مسافروں کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا،واضح رہے کہ گذشتہ ماہ حکومت اور طالبان دہشت گردوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس میں ٹل پاراچنار سڑک پر طالبان دہشت گردوں کو محاصرہ ختم کرنے کاکہا گیا تھا تاہم معاہدے کے چند روز گذرنے کے بعد ہی ایک اور دہشت گردانہ کاروائی سامنے آئی ہے،امن معاہدی حکومت اور کالعمد تحریک طالبان پاکستان کے کرم ایجنسی کے کمانڈر فضل سعید کے درمیان طے پایا تھا۔جبکہ طالبان دہشت گردوں کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ناصبی سلفی طالبان دہشت گرد شرعی احکامات کے مطابق حملے کرتے ہیں ،ذرائع کاکہناہے کہ کرم ایجنسی میں طالبان دہشت گردوں سے حکومتی معاہدہ ایک ٹیسٹ کیس تھا تاہم گیند اب بھی طالبان دہشت گردوں کے کورٹ میں موجود ہے۔
دوسری جانب کرم ایجنسی کے چھ بڑے قبائل کی کونسل نے اس دہشت گردانہ کاروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافر بس پر طالبان دہشت گردوں کا حملہ امن معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،اور حکومت اور قبائلی جرگہ سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کو ان کے گھناؤنے اقدام کی سزا دی جائے۔
بشکریہ از شیعت نیوز
۔۔۔۔
یاد رہے کہ ابنا نے معاہدے کے بعد جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا اب وہ ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ گو کہ مذکورہ فضل سعید نے کہا تھا کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو شریعت کے مطابق سزائیں دی جائیں گی چنانچہ اگر یہ حملہ ان کے ساتھیوں نے نہیں کیا ہے تو اپنے وعدے کے مطابق اقدام کرنا چاہئے اور اگر یہ حملہ ان کے ساتھیوں نے کیا ہے تو انہیں خود وضاحت کرنی چاہئے اور یہ بھی بتانا چاہئے کہ جس اسلام کا اس وقت انھوں نے حوالہ دیا تھا کیا وہ اس کے مطابق مسلمان ہیں؟
خدشات کچھ یوں تھے:
پہلا خدشہ:
امن معاہدے کا شیعہ اور سنی عوام نے خیرمقدم کیا ہے لیکن طالبان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ تا ہم طالبان کے ایک کمانڈر نے یقین دہانی کرائی ہے تو شاید اندیشہ ظاہر کرنے والے بعض افراد مطمئن ہوگئے ہوں لیکن خدشہ اب بھی یہ موجود ہے کہ شاید یہ شخص طالبان کے تمام گروہوں کا نمائندہ نہ ہو اور طالبان کے دوسرے گروہ اس کی اس بات سے متفق نہ ہوں۔
یادرہے کہ طالبان کے متعدد ٹولے ہیں اور ہر ٹولہ کسی ایک ملک سے وابستہ ہے اور چونکہ افغانستان پر قابض بیرونی قوتیں پاراچنار میں امن کے قیام سے خطرہ محسوس کرتے ہیں چنانچہ یہ امکان پوری قوت کے ساتھ موجود ہے کہ امریکہ اور نیٹو سے وابستہ طالبان ایک بار پھر سڑک پر رہزنی کرکے اس معاہدے کو سبوتاژ کریں اور کرم کا ممکنہ امن ایک بار پھر غارت ہوجائے۔
دوسرا خدشہ:
دوسری بات یہ ہے کہ کرم ایجنسی سنی اور شیعہ قبائل کا مشترکہ گھر ہے اور دونوں فریق سینکڑوں برسوں سے اس سرزمین پر مل کر رہ رہے ہیں اور جب بھی کوئی تیسرا فریق ـ افغان مجاہدین، عرب دہشت گردوں یا طالبان کی صورت میں ـ اس علاقے میں مداخلت کرنے آیا ہے علاقے کا امن نیست و نابود ہوگیا ہے اور اگر طالبان ـ جن کا تعلق اس علاقے سے نہیں ہے اور دوسرے علاقوں سے یہاں آتے ہیں اور امن کی بنا پر ممکن ہے کہ خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی اور وزیرستان سے مزید طالبان بھی حکومت کے حملوں سے بچنے کے لئے اس علاقے کا رخ کریں اور ـ ایک بار پھر علاقے کو اپنی جولانگاہ بنانا چاہیں تو ممکن ہے کہ امن کا نیا معاہدہ بھی چند ہی روز کا مہمان بن کر رخصت ہوجائے۔
تیسرا خدشہ:
اگر گہری اور غائرانہ نگاہ سے طالبان کی طرف سے معاہدے کی حمایت کی طرف دیکھا جائے تو یہ حمایت اندیشوں میں کمی کی بجائے ان میں اضافہ بھی کرتی ہے کیونکہ علاقے کے عوام کی خواہش تھی کہ صلح و مصالحت علاقے کے مقامی لوگوں کے درمیان طے پائے کیونکہ صرف اسی صورت میں پائیدار امن کی ضمانت دی جاسکے گی اور سب کی یہی خواہش تھی کہ طالبان کو کرم ایجنسی کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔
چوتھا خدشہ:
چوتھی بات یہ ہے کہ کرم ایجنسی کے عوام کو ملیشیا کمانڈنٹ کرنل توصیف سے بھی بڑی شکایتیں ہیں لیکن معاہدے کے سلسلے میں آنی والی خبروں کے ضمن میں ان کے تبادلے یا برطرفی کی کوئی خبر نہیں ملی جو ایک تشویشناک بات ہے اور ان کی طرف سے معاہدہ امن کے سبوتاژ ہونے کا امکان پوری قوت سے باقی ہے کیونکہ وہ پاکستانی فوج کا سپاہی ہونے کے باوجود کس قوت سے ہدایات لے رہا ہے، اس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110
- پاراچنار: شیعہ مسافرین پر دہشت گردوں کا حملہ، 9 افراد زخمی / تبصرہ