اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اطالوی وزیر خارجہ فرانکو فرانتینی نے تین سال قبل منعقد ہونے والے اٹلی اور لیبیا کے درمیان دوستی کے معاہدے کے بارے میں کہا: ہم نے ایک حکومت کے ساتھ دوستی کے معاہدے پر دستخط کئے تھے لیکن جب وہ حکومت ہی نہ رہے تو یقینی طور پر مذکورہ معاہدہ بھی نافذالعمل نہیں رہے گا۔اطالوی وزیر خارجہ نے دوستی کے معاہدے کے بارے میں اظہار خیال کرکے درحقیقت اس معاہدے کی منسوخی کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اطالوی حکومت کو یہ سہولت حاصل ہوئی ہے کہ وہ لیبیا میں فوجی مداخلت کی صورت میں اس ملک میں موجودہ فوجی اڈے اپنے حلیفوں کے سپرد کردے اور اٹلی بھی اس کاروائی میں امریکہ اور نیٹو کا ساتھ دے۔2008 میں منعقدہ دوستی کے معاہدے کے تحت اٹلی نے نوآبادیاتی قوانین کے تحت لیبیا کو 5 ارب ڈالر تاوان ادا کرنے کا وعدہ دیا جس کے بدلے لیبیا کے معمر قذافی نے لیبیا کے کئی علاقوں میں نہایت اہم فوجی اڈے اٹلی کے حوالے کردیئے۔ دریں اثناء امریکہ کا چھٹا بحری بیڑا اٹلی کے پانیوں میں لنگر انداز ہے اور نیٹو کے کئی فوجی اڈے بھی اس ملک میں قائم ہیں۔اسی حال میں اطالوی وزارت خارجہ کے ابلاغی امور کے نائب، "آدلو آماتی" نے کہا ہے کہ "لیبیا کے ساتھ دوستی کے معاہدے کی منسوخی کے نتیجے میں یہ ضروری نہیں ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج لیبیا کے خلاف اپنی کاروائی اٹلی کی سرزمین سے شروع کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول معاہدے کی منسوخی اور مغربی ممالک کی طرف سے اٹلی کو اڈا بنا کر لیبیا پر حملے کرنے کے درمیان کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تا ہم تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اٹلی کی طرف سے لیبیا کے ساتھ دوستی کے معاہدے کی تنسیخ لیبیا میں مغربی ممالک کی فوجی مداخلت کا پیش خیمہ ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے سینکڑوں فوجی مشیران لیبیا کی صورت حال پر قابو پانے کے لئے فوجی اڈا بنانے کی نیت سے افریقہ کے اس تیل کی دولت سے مالامال افریقی ملک میں پہنچ گئے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ اور برطانیہ کی اسپیشل فورسز 22 اور 23 فروری کو لیبیا کے ساحلی شہروں "بن غازی اور طُبرُق" میں داخل ہوئی ہیں۔ دوسری طرف سے بھارت کے تین جنگی بحری جہاز بھی شمالی افریقی سمندروں میں پہنچ رہے ہیں جبکہ امریکہ نے لیبیا کے ساحلوں کے قریب جنگی پوزیشن سنبھالنے سے متعلق رپورٹوں کی تصدیق کی ہے۔ امریکہ بحیرہ روم میں اپنی بحری فوج کی صورت میں موجود ہے اور اٹلی میں اس کا چھٹا بحری بیڑا موجود ہے جبکہ اس کے بحری اور ہوائی فوجی اڈے اسپین اور ترکی میں بھی موجود ہیں۔ ادھر لیبیائی آمر و قاتل و جنونی قذافی کی وفادار فوجیں تیونس کی سرحدوں کے قریب بھی شکست سے دوچار ہوگئی ہیں اور ان علاقوں پر بھی انقلابی قوتوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انقلابی قوتیں طرابلس کے قریب نئی کامیابیاں حاصل کرنے پر جشن منا رہے ہیں۔ویسے تو رسمی اعداد و شمار کے مطابق قذافی نے ابھی تک 2000 افراد کو موت کی گھاٹ اتارا ہے لیکن غیر رسمی اطلاعات کے مطابق شہداء کی تعداد 10 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110