27 فروری 2011 - 20:30

سعودی عرب میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے نامور حامی اور الاحساء کے امام جمعہ شیخ عامر کو آئینی بادشاہت کا مطالبہ کرنے پر الاحساء میں گرفتار کرلیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اور الاحساء کے امام جمعہ شیخ توفیق عامر کو کل اتوار کے روز سعودی حکام نے اس وقت گرفتار کیا جب انھوں نے ملک میں میں انسانی اور شہری حقوق کی ضمانت فراہم کرنے، آئینی بادشاہت کے قیام اور سیاسی آزادیاں عطا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔راصد نیوز نیٹ ورک نے با خبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ شیخ عامر کو کل (بروز اتوار) شام کے وقت سیکورٹی تحقیقات کے مرکز میں بلایا گیا اور انہیں فوری طور پر الدمام شہر کے جنرل انٹیلی جنس کے ادارے مین منتقل کیا گیا۔ شیخ عامر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہیں نصف شب ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ شیخ عامر کو دمام کے انٹیلی جنس مرکز میں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی ملاقات پر پابندی ہے۔ شیخ العامر نے گذشتہ جمعہ کے روز احساء کی مسجد ائمة البقیع میں خطبے دیئے اور انھوں نے ملک میں آئینی بادشاہت کے قیام سمیت سیاسی اصلاحات اور ملک میں فرقہ وارانہ امتیازی رویوں کے لئے کسی حد (!!) کے تعین کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے آئینی بادشاہت کے قیام کے ساتھ ساتھ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے قیام اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو عوامی انقلاب کے خطرے کا سامنا ہے اور ایسے حال میں کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری کسی صورت میں بھی سعودی بادشاہی خاندان مفید نہیں ہے بلکہ حکمرانوں کا یہ اقدام انقلاب کے جلد از جلد آغاز کا باعث ہوسکتا ہے۔

.....

/110

- انقلاب سعودی سرحدیں بھی پار کرگیا